افغان رکنِ پارلیمان پر خودکش حملے میں تین عام شہری ہلاک

بدقسمتی سے اس حملے میں تین عام شہری ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں:ترجمان وزارتِ داخلہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبدقسمتی سے اس حملے میں تین عام شہری ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں:ترجمان وزارتِ داخلہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اہم خاتون رکنِ پارلیمان پر خودکش حملے میں تین عام شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ رکنِ پارلیمان کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

خاتونِ رکنِ پارلیمان شکریہ بارکزئی خواتین کے حقوق کی کارکن ہیں اور وہ صدر اشرف غنی کی اتحادی۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’شکریہ بارکزئی کی حالت ٹھیک ہے اور ان کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بدقسمتی سے اس حملے میں تین عام شہری ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق شکریہ بارکزئی پارلیمان کے دیگر اراکین کے ہمراہ ایک قافلے میں پارلیمان کی عمارت کی جانب جا رہی تھیں کہ ایک شخص نے اپنی گاڑی ان کی گاڑی سے ٹکرانے کی کوشش کی اور ایک دھماکہ ہوا۔

افغانستان میں بم دھماکے اور خودکش حملے ہوتے رہے ہیں اور ان میں اکثر افغان طالبان ملوث ہوتے ہیں۔

افغانستان میں گذشتہ پیر کو طالبان کے دو بم حملوں میں پولیس کے کم از کم دس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

شکریہ برکزئی خواتین کی حقوق کی کارکن ہیں اور وہ صدر اشرف غنی کی اتحادی ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنشکریہ برکزئی خواتین کی حقوق کی کارکن ہیں اور وہ صدر اشرف غنی کی اتحادی ہیں

افغان حکام کے مطابق پہلا حملہ کابل کے جنوب مشرقی صوبے لوگر میں ہوا جہاں خودکش حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق اس حملے میں ایک پولیس افسر سمیت سات پولیس اہلکار مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور فوجی وردی میں ملبوس تھا اور اس نے کمانڈر کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے دفتر پہنچے۔

ادھر پیر کو ہی مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں پولیس کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

صوبائی ترجمان احمد ضیا عبدالزئی کے مطابق اس حملے میں تین پولیس اہلکار مارے گئے۔