’میں سُن ہو چکا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شرجیل بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
میں سارا وقت ٹی وی پر ایک بھیانک منظر دیکھتا رہا۔ سکول میں یرغمال بچے، دھماکے، دہشت گرد، فوجی گاڑیاں، فائرنگ، سکول کے باہر حواس باختہ ماں باپ اور بدحواس میڈیا۔
میں یہ سب کچھ دیکھے جا رہا ہوں میرا دماغ بالکل سُن ہو چکا ہے۔
میں اپنے آس پاس نظر ڈالتا ہوں، تقریباً سب ہی اسی طرح کی گومگو والی کیفیت میں اپنے آپ سے خود کلامی کرتے نظر آتے ہیں۔
میں نے لا شعوری طور پر فیس بک اکاؤنٹ کھولا اور خاموشی سے پروفائل پکچر کو سیاہ کردیا اور پھر بنا سوچے سمجھے وہی سیاہی کا تھال اپنے پیاروں میں بانٹنے لگا کہ تم سب بھی اس ماتم میں شامل ہو جاؤ۔
ان سب نے جلدی سے میری ماتمی اور احتجاجی سیاہی سے اپنے پروفائل سیاہ کرنے شروع کردیے اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے پیاروں کے چہرے سیاہ ہونے لگے۔
آفرین ہے ان کی محبت پر کہ کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ معاف کرنا میں تو بلوچ ہوں، میرے بھائی کی تشدد زدہ لاش آئی تھی تو اس وقت تمھاری ماتمی سیاہی کہاں تھی؟
سائیں میں تو سندھی ہوں، ہم پر تو پہلے ہی اس ملک کے کارے ہیں، غداری کے اتنے کلنک ہیں اور کیا سیاہ کریں؟
ہمارے بیٹے بھی مارے جا رہے ہیں ہم نے تو تم کو ماتم کرتے نہیں دیکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تھر میں رہنے والے کسی شخص کی ملامت بھری آواز نہیں آئی کہ تھر میں کتنے معصوم بچے بھوک سے مر رہے ہیں تم تو دیکھنے بھی آئے تھے، کوئی فکر ہوئی تم کو؟

،تصویر کا ذریعہEPA
کسی ہندو نے طعنہ نہیں دیا کہ ’ہماری نوجوان بہنوں کو تمھارے مسلمان بھائی زبردستی مسلمان بنا کر‘ انھیں اپنے حرم کی زینت بنا رہے ہیں، مجال ہے کہ شرم سے تمہاری آنکھ جھُکی ہو، ہم کیوں ملیں یہ سیاہی، جاؤ بابا اٹھاؤ اپنا توا، ہمارا چہرہ پہلے ہی سرخ ہو رہا ہے۔
کسی نے نہیں کہا کہ کہاں کا رونا؟ کیسا ماتم؟ ہم تو سویلین ہیں اور یہ تو فوج کے ساتھ ہوا ہے چنانچہ فوج جانے اور اس کا کام۔
کسی ہزاریے نےمڑ کر نہیں کہا کہ میں تو شیعہ ہوں جب ہم کوئٹہ میں 100 جنازے سڑک پہ رکھ کر سردی میں ٹھٹھر رہے تھے تب تم تماشہ دیکھ رہے تھے، ایک منٹ کے لیے ہمارے پاس سے گزرے بھی تھے ؟
جب ہمارے مسافر زائرین کو بسوں سے اتار کر اللہ اکبر کے نعروں کے ساتہ بھون دیا جاتا ہے تو اس وقت تم تو منہ میں گھنگھیاں ڈالے بیٹھے رہتے ہو، جاؤ برادر، میرا محرم تو سال کے 12 مہینے چلتا رہتا ہے۔
کسی عیسائی کی طنزیہ نگاہ نہیں اُٹھی کہ جب میرے پیاروں کو تم اپنی بھٹیوں میں زندہ جلا رہے تھے کیا اس وقت بھی تم اتنے ہی دکھی تھے؟
کیا اس دن تم نے اپنا چہرہ سیاہ کیا تھا؟ یا ہماری جلی ہوئی لاشیں دیکھ کر ناک پر کپڑا رکھ لیا تھا؟
میرے تمام دوست میرے تمام پیارے فیس بک پر میرے ساتھ سیاہ ماتمی چہرے لیے اس قیامت پر گریہ کر رہے ہیں، کوئی ان معصوموں کی تصویریں شیئر کر رہا ہے، کوئی مارنے والوں کو گالیاں دے رہا ہے تو کوئی ان مقتول بچوں کے لیے دعا کر رہا ہے۔
میں جب ماتمی سیاہی بانٹتے بانٹتے تھک جاتا ہوں تو فیس بک کی دنیا سے خاموشی سے باہر نکل جاتا ہوں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
شہر کی سڑکوں پہ اندھیرا زیادہ اور رش کم ہے، میں اپنی بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھ کر گھر میں داخل ہوتا ہوں۔
میرے بچے نیند سے بھری آنکھیں لیے میری جانب بھاگتے ہوئے آتے ہیں، میں آج ان سب کو بہت دیر تک گلے لگا کر چومتا رہتا ہوں،
اور پھر انھیں ان کے بستر پہ سلا کر بالکونی میں جا کر نیچے جھانکنے لگتا ہوں۔
بالکونی سے نیچے ایک دنیا مجھ پر وحشیانہ قہقے لگا رہی ہے جہاں بندوق اور بارود سے لیس لوگ میرے بچوں کی بُو سونگھتے پھر رہے ہیں. انھیں قتل کر رہے ہیں۔
میں پھر لیپ ٹاپ کھول کر ایک غیر حقیقی دنیا میں جا کر اس کا احتجاج کرتا ہوں، روتا ہوں، بِلکتا ہوں اور باقی لوگوں سے کہتا ہوں کہ جاگو خدارا جاگو، تم کب جاگو گے؟. تو وہ کہتے ہیں ہم بھی تو یہی کر رہے ہیں جو تم کر رہے ہو۔
پتہ نہیں میں جاگ رہا ہوں؟ سو رہا ہوں؟ یا سُن ہو چکا ہوں؟







