’معلوم نہیں تھا کہ یہ آخری ملاقات ہوگی‘

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت کل 141 ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت کل 141 ہلاک ہوئے تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں فوج کے زیرِانتظام چلنے والے سکول و کالج پر شدت پسندوں کے حملے میں سکول کی پرنسپل مسز طاہرہ قاضی بھی ہلاک ہوگئیں ہیں۔

مسز قاضی طاہرہ کا تعلق پشاور کے علاقے لنڈی ارباب سے ہے۔

ان کے بڑے صاحبزادے احمد قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی والدہ کا جسم خودکش حملے کے نتیجے میں مکمل طور پر جھلس گیا تھا۔

بدھ کو قاضی طاہرہ کی تدفین کر دی گئی ہے۔

احمد قاضی نے بتایا کہ ان کی والدہ نے آرمی پبلک سکول میں بحثیت ٹیچر سنہ 1994 میں اپنے کریئر کا آغاز کیا۔

مسز طاہرہ قاضی سنہ 2000 میں آرمی پبلک سکول و کالج پشاور کے نائب پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئیں جبکہ سنہ 2006 میں انھیں ترقی دیکر پرنسپل بنا دیا گیا۔

مرحومہ کے شوہر طفر قاضی فوج میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

احمد قاضی نے مزید بتایا کہ ان کی اپنی والدہ سے ناشتے پر ملاقات ہوا کرتی تھی جس کے بعد وہ سکول چلی جاتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ منگل کی صبح بھی ان کی والدہ سے ملاقات ہوئی تھی تاہم انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی اپنی والدہ سے آخری ملاقات ہوگی۔

مسز طاہرہ کے تین بچے ہیں جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔