’جوتے اور خون میں لت پت کتابیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
بدھ کی صبح جب مجھے شدت پسندوں کے حملوں سےمتاثر ہونے والے آرمی پبلک سکول کے اندر جانے کا موقع ملا تو میرے ذہن میں ایک خاکہ بنا ہوا تھا لیکن جب اندر جاکر حالات کو دیکھا تو میرے ذہن میں خاکے کا عشر عشیر بھی نہیں تھیں۔
سکول کے عقبی حصے کی دیوار جہاں سے سکیورٹی حکام کے بقول شدت پسند سکول کے اندر داخل ہوئے تھے اس کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا تھا لیکن جونہی سیڑھیاں چڑھ کر آڈیٹوریم کے اندر گئے کو دیکھا تو وہاں ایسے لگتا تھا جیسے قیامت آئی ہو۔
سکول کے اس ہال میں چھ سو سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور ہال میں لگی ہوئی کرسیوں میں شاید ہی کوئی کرسی بچی ہو جو خون آلود نہ ہو۔ اس کے علاوہ کرسیوں کی رو سے خون ٹپک ٹپک کر سٹیج کے قریب پہنچ چکا تھا۔
شدت پسندی کے واقعے کے بعد ہال میں موجود بچوں کی جوتیاں اور کتابیں خون میں لت پت پڑیں تھیں۔ پندرہ گھنٹے کا وقت گذرنے اور سرد موسم ہونے کے باوجود خون جما ہوا نہیں تھا اور مجھ سمیت تین چار صحافی خون کی وجہ سے پھسلتے پھسلتے بچے۔
اس آڈیٹوریم میں فسٹ ایڈ کا سامان بھی بکھرا پڑا تھا جس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ سکول کے طلباء کو ہنگامی صورت حال میں خود کو بچانے اور ساتھی کے زخمی ہونے کی صورت میں اسے طبی امداد فراہم کرنے تربیت دی جا رہی تھی اور ان میں سے شاید کسی کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ان کے پاس کسی دوسرے کو کیا خود کو بھی بچانے کا وقت نہیں ہو گا۔
سکول کے ایڈمنسٹریشن بلاک اور پرنسپل کے کمرے مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے اور یہی وہ جگہ تھی جہاں پر سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی میں شدت آئی تھی اور جہاں پر حکام کے مطابق شدت پسندوں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے بھی اڑایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے والے ایک فوجی افسر کا کہنا تھا کہ سکول کی پرنسپل گولی لگنے یا دھماکہ خیز مواد کی زد میں آ کر ہلاک نہیں ہوئیں بلکہ اس واقعہ کے خوف کی وجہ سے اُن کی ہلاکت ہوئی ہے۔
اس بلاک میں انسانی جسم کے مختلف اعضا بکھرے ہوئے تھے جن میں سے کچھ اعضا کو ایک بوری میں بند کر کے ایک طرف رکھ دیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بقول اس واقعہ میں ملوث افراد اور اُن کے سہولت کارروں کا پتہ چلا لیا گیا ہے جنھیں بہت جلد گرفتار کیا جائے گا اس کے علاوہ اُنھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
جس دیوار کو پھلانگ کر شدت پسند سکول کے احاطے میں داخل ہوئے اس کے دوسری طرف رہنے والے علاقے کے لوگوں کے بقول اس علاقے میں نہ تو پولیس کی پیٹرولنگ کبھی ہوئی اور نہ ہی کوئی سکیورٹی گارڈ اس دیوار کے ساتھ تعینات کیا گیا۔
محمد بلال جن کے بچے اس سکول میں زیر تعلیم ہیں، کے مطابق اس سے پہلے بھی سکول کے اندر سے دھاکہ خِیز مواد برآمد ہو چکا ہے جسے ناکارہ بنایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اس سکول کے اردگرد سکیورٹی اس طرح مضبوط نہیں کی گئی جس طرح کی جانی چاہیے تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد وہ یہ بات سوچنے پر مجبور ہیں کہ اپنے بچوں کو گھر میں ہی پڑھا کر پرائیویٹ داخلے بھجوا کر تعلیم دلوائیں۔ محمد بلال کے بقول اُنھیں اپنے بچوں کے مستقبل سے زیادہ اُن کی زندگیاں زیادہ عزیز ہیں۔
سکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق خفیہ ادارں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹس کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں آرمی پبلک سکول کے علاوہ دیگر بین الاقوامی تعلیمی اداروں پر شدت پسندوں کے حملوں کے خطرات موجود رہتے تھے جبکہ پشاور کے سکول کے بارے میں حملوں کے خدشات کا ذکر تو ضرور کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کو ایک ممعول کی رپورٹ کے طور پر ہی گردانا جاتا رہا ہے۔







