’اچھے اور برے طالبان میں کوئی تمیز نہیں رکھی جائے گی‘

وزیراعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ زخمیوں کی عیادت کی

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ زخمیوں کی عیادت کی

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں کسی بھی سطح پر اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی جائے گی اور جب تک ایک بھی دہشت گرد باقی ہے یہ جنگ جاری رہے گی۔

دوسری جانب پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل اشرف نے کابل کے ایک روزہ دورے میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں طالبان کے معاملے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان انٹیلیجنس تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پشاور میں ملک کی سیاسی قیادت کے اجلاس کے بعد امریکہ مشترکہ نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’اجلاس اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یہ جنگ ہماری جنگ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور قومی جذبات کا آئنہ دار لائحہ عمل تیار کرکے اس پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔‘

وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ پشاور میں برپا کیا جانے والا انسانی المیہ، فرار ہوتے ہوئے دہشت گردوں کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ہے جس سے ہمارے قومی عزم اور ولولے میں کوئی دراڑ نہیں ڈالی جا سکے گی۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’ہم اس بات کا بھی واضح اعلان کرتے ہیں کہ اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز کسی سطح پر روا نہیں رکھی جائے گی جب تک ایک بھی دہشت گرد باقی ہے یہ جنگ جاری رہے گی۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے بتایا کہ اجلاس نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ وزیرداخلہ کی زیرصدارت کمیٹی بنائی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ایک نمائیندہ موجود ہوگا جو سات دن کے اندر اندر ’نیشنل پلان آف ایکشن ‘ مرتب کرے گا۔

انھوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی تیاری میں مسلح افواج اور انٹیلیجنس اداروں کے نمائیندے بھی پوری طرح شریک ہوں گے۔

’ یہ پلان قومی قیادت کے سامنے سات روز کے اندر اندر پیش کیا جائے گا اور پھر قومی قیادت کی منظوری کے بعد قومی اور عسکری قیادت اسے قوم کے سامنے پیش کریں گے۔‘

وزیراعطم نواز شریف نے یہ اجلاس منگل کو پشاور میں سکول پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد طلب کیا تھا جس میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ سمیت ملک کی تقریباً تمام اعلیٰ سیاسی قیادت نے شرکت کی۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ ’میں قومی قیادت کا ازحد مشکور ہوں۔ جنھوں نے ہر چیز بالائے طاق رکھ کر ایک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انھوں نے اس معاملے پر مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔‘

آپریشن ضرب عضب کے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ کچھ ایسے دہشت گردہیں جو افغانستان میں بھاگ گئے ہیں دونوں حکومتیں مل کر ان کا پیچھا کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر موجود دہشت گردوں سے کس طرح نمٹا جائے اس کا پلان جلد عوام کے سامنے آجائے گا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’اس بارے میں بات ہوئی ہے کہ ان مجرموں کے خلاف کاروائیاں تیز ہونی چاہیں اور جو بڑے مجرم ہیں ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان کی جانب سے بھی یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ پکڑے جاتے ہیں اگر انھیں بھی سزا نہیں ملنی تو کس کو سزا ملے گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ عمران خان اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے بھی مشکور ہیں کہ وہ اس اجلاس میں شرکت کے لیے آئے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں 132 بچے اور سکول سٹاف کے نو ارکان ہلاک ہوئےیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے میں 132 بچے اور سکول سٹاف کے نو ارکان ہلاک ہوئےیں

انتخابات میں دھاندلی سے متعلق عمران خان کے ملک گیر احتجاج کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’عمران خان مجھے اعزاز بخشیں کہ میں انہیں چائے پر بلاؤں یا پھر وہ مجھے یہ اعزاز دیں کہ میں ان کے پاس آؤں۔ ہم جمہوری لوگ ہیں اور معاملات پر بات کریں گے۔‘

اس موقعے پر تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاکہ اس معاملے پر پوری قوم کو اکھٹا ہونا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ قوم اکھٹی ہوتی ہے تو جنگ جیتتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی قومی مسئلہ ہے اور وہ پہلے ہی وزیراعظم سے اس مسئلہ پر حمایت کرنے کا کہہ چکے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ان کے یہاں آنے کا مقصد سب کو یہ پیغام دینا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اکھٹی ہیں۔

اس ہنگامی پارلیمانی کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، پاکستانی کشمیر کے وزیرِ اعظم، تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق، پیپلز پارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن، جمیعتِ علمائے اسلام ف کے غفور حیدری، اعجاز الحق، آفتاب احمد خان شیرپاؤ، مشاہد حسین، اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

پاکستانی آرمی چیف کی افغان صدر سے ملاقات

افغان صدر اشرف غنی اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ملاقات میں طالبان کے معاملے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان انٹیلیجنس تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغان صدر اشرف غنی اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ملاقات میں طالبان کے معاملے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان انٹیلیجنس تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کابل میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی کے ساتھ ملاقات کی ہے۔

افغان صدر نے پاکستانی فوج کے سربراہ وعدہ کیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر اقدامات کرے گا۔

جنرل راحیل شریف کے ہمراہ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ بھی موجود تھے۔ انھوں نے طالبان کے معاملے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان انٹیلیجنس تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

افغان ایوانِ صدر سے جاری کی گئی بیان میں صدر اشرف غنی ہے کہا ہے ’پشاور میں سکول پر حملہ درحقیقت افغانستان، مسلمانوں اور تمام انسانیت پر حملہ ہے‘۔

افغان صدر نے کہا ’پشاور سکول پر حملہ کرنے والے انہی دھشت گردوں کی طرح ہیں جو افغانستان کے پکتیکا صوبے کے یحیی خیل علاقے اور استقلال اسکول پر حملہ کرکے بچوں پر حملہ کیے۔‘

بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کہا ’ہم کوشش کررہے ہیں کہ جلد از جلد پشاور سکول حملے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے سزا دیں۔‘

سزائے موت پر عمل درآمد کی منظوری

سکول پر حملے میں بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکتوں کے بعد ملک کے مختلف حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا تھا
،تصویر کا کیپشنسکول پر حملے میں بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکتوں کے بعد ملک کے مختلف حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا تھا

وزیرِ اعظم نواز شریف نے سانحۂ پشاور کے بعد منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس سے قبل دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث دہشت گردوں کو دی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ منگل کو پشاور میں ایک سکول پر حملے میں بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکتوں کے بعد ملک کے مختلف حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ سزائے موت کے عمل درآمد پر عائد عارضی پابندی ختم کی جائے۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والی عدالتیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں، اور مقدمات سالہاسال تک چلتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس کی تفتیش کی کمزوریاں الگ ہیں، اور جب تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

اس موقعے پر انھوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی اپنی سرزمین کسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔