جھنگ: پسند کی شادی پر چھ افراد کے قتل میں گرفتاری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر جھنگ کے علاقے میں پولیس نے پسند کی دوسری شادی کرنے پر چھ افراد کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم اس مقدمے کا مرکزی ملزم ابھی تک فرار ہے۔
پنجاب پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والا شخص مقتولہ غلام فاطمہ کے سابق شوہر کا بھائی ہے۔
اہلکار کے مطابق ملزم کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ گاڑی میں سوار ہو کر اپنے آبائی علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی فرار ہو رہا تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے کا مرکزی ملزم فضل محمد ہے جو مقتولہ کا بیٹا ہے اور اسے اپنی ماں کی دوسری شادی کرنے کا رنج تھا۔
تھانہ اٹھارہ ہزاری کے انچارج میاں اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ 15 سال پہلے صوابی کی رہائشی غلام فاطمہ نے اپنے پہلے شوہر کی وفات کے بعد علاقے کے مکین فضل رزاق سے شادی کر لی تھی جس کا مقتولہ کے پہلے خاوند کے بھائی گل زمین اور اس کے خاندان والوں کو شدید رنج تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ پہلے خاوند سے اس کے دو بیٹے تھے جنھیں غلام فاطمہ کے پہلے سسرال والوں نے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔
میاں اسلم کے مطابق شادی کے بعد فضل رزاق اپنی بیوی کو صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی سے لے کر صوبہ پنجاب کے علاقے جھنگ میں سکونت اختیار کر لی اور وہاں پر نوکری کر کے بسر اوقات کرتا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ چند روز قبل مقتولہ غلام فاطمہ کے پہلے شوہر کا بیٹا فضل محمد اپنی والدہ کے پاس رہنے لگ گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی پولیس کے مطابق وقوعے کے روز ملزم فضل اللہ نے رات کے وقت اپنی والدہ، سوتیلے باپ اور اُن کے بچوں کو نشہ آور چیز پلائی جس کے بعد ملزم نے اپنے دیگر دو ساتھیوں جو گھر کے باہر چھپے ہوئے تھے، کو اندر بلایا اور ملزمان نے کلھاڑیوں اور چھریوں کے وار کر کے غلام فاطمہ اس کے شوہر فضل رزاق اور اس کے چار بچوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔
قتل ہونے والوں میں تین لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہے۔ اس واقعے میں ایک بچی شدید زخمی ہوئی ہے جبکہ تین بچے معجزانہ طور پر بچ گئے۔
پولیس کو اس واقعے کی اطلاع اُس وقت ملی جب لوگوں نے مقتولہ کے گھر سے خون بہتے ہوئے نکلتا دیکھا۔
مقامی پولیس کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والی بچی شدید خوف میں مبتلا ہے اور وہ ابھی اس حالت میں نہیں ہے کہ وہ ملزمان کو شناخت کر سکے۔
واضح رہے کہ عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق رواں سال ملک بھر میں غیرت کے نام پر قتل ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور ان میں سے کسی ایک بھی مقدمے کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔







