پاکستان نے مزید 50 بھارتی ماہی گیر گرفتار کر لیے

میری ٹائم سکیورٹی فورس نے 21 نومبر کو بھی بھارتی گجرات سے تعلق رکھنے والے 61 ماہی گیروں کو 11 لانچوں سمیت گرفتار کیا تھا
،تصویر کا کیپشنمیری ٹائم سکیورٹی فورس نے 21 نومبر کو بھی بھارتی گجرات سے تعلق رکھنے والے 61 ماہی گیروں کو 11 لانچوں سمیت گرفتار کیا تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کی ساحلی سکیورٹی فورس نے 50 بھارتی ماہی گیروں کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ ماہی گیر دس کشتیوں میں سوار تھے۔

بھارتی ماہی گیروں کی گرفتاری گذشتہ شب اس وقت عمل میں آئی جب اوسلو میں نوبل انعام کی تقریب میں ملالہ یوسف زئی اور بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی پاکستان اور بھارت میں بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کر رہے تھے۔

ایس ایچ او ڈاکس پولیس ساجد منگی کا کہنا ہے کہ بھارتی ماہی گیروں پر فشریز اور فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور ابتدائی تحقیقات کے بعد ان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اس سے قبل ساحلی سکیورٹی فورس نے 21 نومبر کو بھارتی گجرات سے تعلق رکھنے والے 61 ماہی گیروں کو 11 لانچوں سمیت گرفتار کیا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ کئی ماہ تک تعطل کا شکار رہا۔

بڑے عرصے بعد پاکستان نے رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں 40 بھارتی قیدی رہا کیے تھے جس میں 35 ماہی گیر اور پانچ عام شہری شامل تھے۔اس کے جواب میں بھارت نے چار پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کیا تھا۔

قیدیوں کا یہ تبادلہ کٹھمنڈو میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے مصافحے کے بعد عمل میں آیا تھا۔

رواں برس مئی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برادری کی تقریب میں شرکت کے لیے بھارت جانے سے پہلے بھی نوازشریف نے 151 بھارتی قیدیوں اور پاکستان کے قبضے میں موجود ان کی کشتیوں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

تاہم اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور سیاسی تناؤ میں اضافے کے بعد قیدیوں کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی۔