پی ٹی آئی نے اپنا مقدمہ خود ہی کمزور کر لیا: رانا ثنااللہ

مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر قانون رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ فیصل آباد میں نوجوان کی ہلاکت کا جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اِس میں نامزد دو ملزمان کا وقوعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
منگل کی سہ پہر فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے ندیم مغل اور سراج نامی افراد کو میڈیا کے سامنے پیش کیا کہ اِن افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے حالانکہ اِن کا وقوعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے میڈیا پر دکھائی جانے والی ایک تصویر پیش کی جس میں ایک شخص کو پستول ہاتھ میں لیے فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی میڈیا پر جس شخص کی تصویر نشر کی گئی اِس کی شکل ان دونوں میں سے کسی کے ساتھ نہیں ملتی۔
انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے گھر کے گھیراؤ کی کال دینے پر عمران خان اور شیخ رشید سمیت پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے۔
بی بی سی اردو کے عدیل اکرم کے مطابق سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فیصل آباد واقعے میں ملوث ملزمان سے ان کا اور ان کی جماعت کا کوئی تعلق نہیں اور پی ٹی آئی نے مقدمے میں غلط لوگوں کو نامزد کر کے اپنا مقدمہ خود ہی کمزور کر لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا فوٹیج میں موجود شخص کی شناخت جلد سامنے آ جائے گی۔ انھوں نے وضاحت کی کہ متعلقہ شخص پاکستان مسلم لیگ ن کا کارکن نہیں ہے: ’میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا، میرے حلقے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے کہنے پر ہوا ہے اور مقتول حق نواز کی میت کو پی ٹی آئی والے زبردستی ان کے کے گھر تک لے کر گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPZ
انھوں نے کہا کہ عمران خان جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کر رہے ہیں اور فیصل آباد میں نوجوان کی ہلاکت کا فائدہ تحریک انصاف اور عمران خان کو ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیر قانون کا کہنا ہے کہ پلان سی میں عمران خان جس جس شہر میں جائیں گے اُن کو وہاں ہڑتال کی کامیابی کے لیے ایک لاش چاہیے ہو گی تاکہ وہ اُس علاقے میں خوف و ہراس پھیلا کر ہڑتال کو کامیاب کر سکیں۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے سوموار کو عام اِنتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف فیصل آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا جس کے دوران ایک نوجوان حق نواز گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔
ہنگامہ آرائی پر پی ٹی آئی کے کارکنوں پر مقدمات
ادھر فیصل آباد میں پیر کو پاکستان تحریکِ انصاف کی اپیل پر احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی پر جماعت کے 34 کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات فیصل آباد کے تھانہ ڈی ٹائپ اور فیکٹری ایریا میں درج کیے گئے اور ان میں نقضِ امن اور دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔
تھانہ فیکٹری ایریا کے محرر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی جانب سےتحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے بھی منگل کو شہر کا دورہ کیا ہے اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
تھانہ ڈی ٹائپ کے محرر نے ایس ایچ او محمد سفیان کی مدعیت میں درج مقدمے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 780 ،427 ،341،324، 149 ،147 کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اے ٹی اے بھی شامل ہے۔‘







