فیصل آباد: پی ٹی آئی، نواز لیگ کے کارکنان میں تصادم، ایک ہلاک

پاکستان تحریک انصاف نے فیصل آباد میں احتجاج کے دوران اپنے کارکن کی ہلاکت پر منگل کو ملک بھر میں یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریک انصاف نے فیصل آباد میں احتجاج کے دوران اپنے کارکن کی ہلاکت پر منگل کو ملک بھر میں یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجاً ملک کے مختلف شہر ’بند‘ کرنے کے اعلان کے بعد پیر کو فیصل آباد میں اس سلسلے میں احتجاج جاری ہے۔

اس احتجاج کے دوران حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے واقعات بھی پیش آئے ہیں اور ناولٹی چوک میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

فیصل آباد پولیس کے اہلکار فضل الرحمان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ناولٹی برج پر پاکستان مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان جھڑپ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار صبا اعتزاز کے مطابق فیصل آباد کے ڈی سی او سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مرنے والا 24 سالہ اصغر علی پاکستان تحریک انصاف کا کارکن تھا۔

تحریکِ انصاف کے کارکن کی ہلاکت کے بعد شہر میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور تحریکِ انصاف کے کارکن اپنے ساتھی کی لاش لے کر مسلم لیگ(ن) کے سینیئر رہنما اور سابق صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کے ڈیرے اور رہائش گاہ کے باہر پہنچے ہیں۔

انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنانتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی ہے

دوسری جانب حکومتِ پنجاب کے ترجمان زعیم حسین قادری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن کی ہلاکت میں مسلم لیگ نواز کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بات صاف ہو جائے گی۔

انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فیصل آباد میں اپنے کارکن کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ فیصل آباد پہنچ کر کارکن کے قتل کی ایف آئی آر درج کرائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ فیصل آباد میں جو کچھ ہوا وہ پہے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا اور اس کے ذمہ دار رانا ثنا اللہ ہیں جنھیں’نہ قانون کا پتا ہے اور نہ جمہوریت کا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج عوام کا حق اور انھیں تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ’حکومت نے طاقت دکھائی۔ پرامن احتجاج پر گولیاں چلانا کہاں کی جمہوریت ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم انصاف مانگ رہے ہیں۔‘

ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے فیصل آباد میں احتجاج کے دوران اپنے کارکن کی ہلاکت پر منگل کو ملک بھر میں یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

گھنٹہ گھر پر بھی حالات کشیدہ ہو رہے ہیں جہاں 200 سے 300 مسلم لیگ کے کارکنان جمع ہو گئے ہیں: پولیس
،تصویر کا کیپشنگھنٹہ گھر پر بھی حالات کشیدہ ہو رہے ہیں جہاں 200 سے 300 مسلم لیگ کے کارکنان جمع ہو گئے ہیں: پولیس

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے فیصل آباد میں ناولٹی پل پر ہونے والی فائرنگ کا نوٹس لیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ریجنل پولیس افسر فیصل آباد سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے اور ہدایت کی ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی کو صوبے میں امن وامان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تاجروں سے زبردستی دکانیں بند کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل پیر کی صبح فیصل آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے شہر کے داخلی راستوں پر الائیڈ چوک، ناولٹی چوک اور ملت روڈ کو بند کرنے کی کوشش کی۔

الائیڈ چوک پر سڑکوں پر ٹائروں کو آگ لگائی گئی اور پی ٹی آئی کی چند خواتین موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کی کوشش کرتی نظر آئیں۔

اس کے علاوہ شہر کے مرکز میں واقع گھنٹہ گھر چوک پر بھی حالات کشیدہ ہیں جہاں دونوں جماعتوں کے کارکن سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہوئے ہیں۔

فیصل آباد میں واقع گھنٹہ گھر کے آس پاس پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز دونوں نے اپنے اپنے موقف کے حق میں پوسٹرز اور بینرز آویزاں کیے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق فیصل آباد میں تین مختلف مقامات پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز کے کارکنان میں تصادم ہوا ہے جبکہ پولیس دونوں جماعتوں کے کارکنان کو دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فیصل آباد میں کاروبار کھلے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفیصل آباد میں کاروبار کھلے ہوئے ہیں

ناولٹی چوک پر کارکنان کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال بھی کیا جبکہ ایک پولیس اہلکار نے بتایا ہے کہ ان کو صرف نظر رکھنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق فیصل آباد میں عموماً کاروبار کھلے ہوئے ہیں۔ ایک دکاندار نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے اس احتجاج اور سیاسی جماعتوں سے کیا غرض میں نے تو اپنے خاندان والوں کے لیے کھانا لے کر جانا ہوتا ہے۔‘

ملت روڈ پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز کے کارکنان آمنے سامنے آ گئے اور ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

عام انتخابات 2013 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے والے عمران خان نے چند روز قبل اسلام آباد میں ریڈ زون میں واقع ڈی چوک پر جاری دھرنے میں ’پلان سی‘ کا اعلان کیا تھا۔

اس پلان کے تحت ملک کے مختلف شہروں کو بند کرایا جائے گا۔ اس پلان کا آغاز فیصل آباد سے کیا گیا ہے۔