این اے 122: ووٹوں کے معائنے سے متعلق فیصلہ محفوظ

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قائم الیکشن ٹریبیونل نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی نااہلی کے لیے انتخابی عذرداری پر کارروائی آٹھ دسمبر تک ملتوی کردی۔
عمران خان سینچر کو الیکشن ٹریبیونل کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
بی بی سے کے نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق کارروائی کے اختتام پر الیکشن ٹریبیونل نے عمران خان کی اُس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 122 میں ووٹوں کے تھیلوں کا معائنہ کیا جائے۔
عمران خان کی ٹریبیونل آمد پر تحریک انصاف کے کارکن الیکشن کمیشن کی عمارت کے باہر موجود تھے۔
الیکشن ٹریبیونل کے جج کاظم علی ملک نے انتخابی عذرداری کو خارج کرنے کی درخواست پر کہا کہ ابھی یہ درخواست قابل پیش رفت نہیں ہے جس پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے وکلا نے یہ درخواست واپس لے لی۔
ٹریبیونل کی کارروائی کے بعد سردار ایاز صادق کے وکلا نے دعویٰ کیا کہ ’آج بھی عمران نے دھاندلی کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور صرف سنی سنائی باتوں پر انحصار کیا۔‘
وکلا کے بقول تحریک انصاف کے سربراہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انتخابات کے دوران وہ شدید بیمار اور سات مئی سے بائیس مئی تک بستر پر تھے۔
بیان ریکارڈ کرانے کے بعد عمران خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے الیکشن ٹریبیونل کے سامنے اپنا موقف بیان کر دیا ہے کہ ’دھاندلی کے سارے ثبوت ووٹوں والے بیگوں میں موجود ہیں۔ اُن کو کھولا جائے گا تو سب سامنے آ جائے گا کہ گذشتہ اِنتخابات میں کس حد تک دھاندلی ہوئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ وہ ڈیڑھ برس سے انصاف کا انتظار کررہے ہیں اور حکمران قانون کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر وہ سپیکر قومی اسمبلی کی جگہ ہوتے تو اس وقت تک ووٹوں کی گنتی کرواچکے ہوتے نہ کہ حکم امتناعی کے پیچھے چھپ جاتے۔
عمران خان نے کہا کہ ’آخر کب پاکستان میں بھارت کی طرح انتخابات ہوں گے جب جیتنے والا کو مبارک باد دی جائے اور ہارنے والے اپنی ہار کو تسلیم کرے۔‘
دوسری جانب الیکشن کمیشن کی عمارت کے باہر تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کے حامی آمنے سامنے آگے تاہم پولیس کی مداخلت کی وجہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔







