پی ٹی آئی کے ارکان استعفوں کی تصدیق سے گریزاں ہیں: سپیکر

،تصویر کا ذریعہNational Assembly
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے الیکشن کمشن کو بتایا ہے کہ باوجود مسلسل کوششوں کے پی ٹی آئی کے اراکین اپنے استعفوں کے حقیقی اور مرضی سے دیے جانے کی تصدیق کروانے سے گریزاں ہیں۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب الیکشن کمشن کو بھجوائے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کے قاعدہ نمبر 43 کے تحت یہ تصدیق کروانے سے گریز کر رہے ہیں کہ انھوں نے استعفے اپنی مرضی سے دیے ہیں اور یہ اصلی ہیں۔
اس مختصر جوابی خط کے مطابق، جس کی کاپی میڈیا کو بھی ارسال کی گئی ہے، پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے موصول کیے تھے، جبکہ الیکشن کمشن نے 16 ستمبر کو ’خالی نشتوں پر ضمنی انتخابات کا انعقاد‘ کے عنوان سے یہ خط قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھجوایا تھا۔
سپیکر قومی اسمبلی نے اس کے جواب میں 19 ستمبر کو بھی الیکشن کمشن کو خط بھجوایا تھا جبکہ جمعرات 30 اکتوبر کو بھجوائے گئے مختصر خط کو اسی کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے مستعفی ہونے والے اراکین کو بدھ کی دوپہر طلب کیا تھا تاہم ان کی سپیکر سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی اور اس کی ذمہ داری پی ٹی آئی کے رہنما اور سپیکر قومی ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔
بدھ کی شام سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے اراکین کے استعفوں کی تصدیق کے لیے ساڑھے پانچ گھنٹے تک منتظر رہے، تاہم درخواست کے باوجود پی ٹی آئی کے اراکین انفرادی طور پر ان کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے اس بیان کو مسترد کیا کہ انھوں نے ملاقات کے لیے تحریک انصاف کے مستعفی اراکین کو وقت نہیں دیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بیان دیا ہے کہ سپیکر کی ہدایات کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے ان کے چیمبر میں مقررہ وقت پر پیش ہوئے، تاہم انتظار کے باوجود سپیکر نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین کو سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے لیے ڈھائی گھنٹے انتظار کروایا گیا: ’ڈپٹی سپیکر کے ذریعے سپیکر اسمبلی کو پیغام بھجوایا اور ہمیں انتظار کرنے کو کہا اور پھر جواب نہیں دیا گیا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے 24 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کے 33 میں سے 25 اراکین قومی اسمبلی کو ان کے استعفوں کی تصدیق کے نوٹس بھجوائے تھے۔
تحریک انصاف کے اراکین نے 23 اگست کو استعفے سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائے تھے تاہم بعد میں حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان مذاکرات کی وجہ سے استعفوں کا معاملہ پس پردہ چلا گیا تھا۔
البتہ مذاکرات میں ناکامی کے بعد استعفوں کا معاملہ دوبارہ شدت اختیار کر گیا اور اس کے بعد متعدد بار تحریک انصاف کے قیادت نے استعفے منظور کرانے کا اعلان کیا۔
حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت تحریکِ انصاف کے استعفے منظور نہ کرے بلکہ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کرے۔







