’دھرنا بھی رہے گا اور جلسے بھی ہوں گے‘

عمران خان نے میانوالی اور ملتان میں بھی جلسوں کا اعلان کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعمران خان نے میانوالی اور ملتان میں بھی جلسوں کا اعلان کیا

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں ایک بڑے جلسۂ عام میں وزیرِ اعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے اور کہا ہے کہ وہ مستعفی ہونے میں جتنی تاخیر کریں گے تحریکِ انصاف کا پیغام ملک کے دیگر شہروں میں پہنچتا رہے گا۔

انھوں نے لاہور کے جلسے کو کامیاب ترین جلسہ قرار دیتے ہوئے اب پہلے میانوالی اور پھر ملتان میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت مخالف تحریک کے دوران اتوار کی شب مینارِ پاکستان پر ہونے والے سے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنا جاری رہے گا اور وہ ملک کے دیگر شہروں میں جلسے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ لاہور میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد دراصل ان کی قوم کے بیدار ہونے کی دعا کی قبولیت ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومت کرنے والی سیاسی جماعتیں باریاں لگا کر ملک کو لوٹتی رہیں۔ ’یہ لوگ اوپر سے لڑائی اور اندر سے بھائی بھائی ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نواز شریف نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اچھا کیا اور اس سے ظاہر ہو گیا ہے کون کون ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا:’حتیٰ کہ زرادی بھی نواز شریف کو بچانے کے لیے دبئی سے آگئے۔‘

عمران خان نے جلسے کے شرکا سے وعدہ لیا کہ وہ کسی بھی انسان سے نا انصافی نہیں ہونے دیں گے۔

دھرنوں کے بعد کیا کھویا کیا پایا کا احاطہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک وزیرِ اعظم کے خلاف پارلیمان میں جھوٹ بولنے پر عدالت میں مقدمہ قائم ہوا۔

انھوں نے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق اپنے الزامات کو دہرایا۔ عمران خان نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے نواز شریف اور چوہدری افتخار کے ساتھ مل کر دھاندلی کی تھی۔ انھوں نے الیکشن کمیشن سے تمام تفصیلات ویب سائٹ پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام سے اپنے لیڈر کو منتخب کرنے کا بنیادی حق چھینا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب تک مجھے انصاف نہیں ملے گا میں نواز شریف کو چین سے حکومت نہیں کرنے دوں گا۔‘

انھوں ایک بار پھر مبینہ انتخابی دھاندلی کی جانچ پڑتال اور حلقے کھولے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نواز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ ’اگر میں غلط ثابت ہوا میں آپ سے معافی مانگ لوں گا۔ آپ غلط ثابت ہوئے آپ کو استعفیٰ دنیا ہوگا۔ آپ کاساتھ دینے والوں کو جیل میں ڈالا جائے گا ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہوگی۔ ‘

انھوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں بیٹھے ’بڑے مگر مچھوں سے حساب لیا جائے گا ان کا احتساب کیا جائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے ایک نظام تعلیم لے کر آئیں گے۔ سارے پاکستان کے لیے ایک سلیبس ہوگا۔ انھوں نے میانوالی اور ملتان میں جلسوں کا اعلان کیا۔

جلسے کے آغاز سے قبل نجی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہونے والا جلسہ نواز شریف کی حکومت کے خلاف ریفرینڈم ہے۔

اس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر شہروں میں جلسے ہوں گے لیکن اسلام آباد میں ان کا دھرنا جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف کو کہتے ہیں کہ مستعفیٰ ہونے میں تاخیر کریں تاکہ وہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی اپنا پیغام پہنچا سکیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں کئی جوڈیشل کمیشن بنے لیکن ان کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور نواز شریف کی موجودگی میں کوئی تحقیقاتی کمیشن انتخابی دھاندلیوں کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات نہیں کر سکتا۔

عمران خان نے کہا کہ وہ لاہور سے اسلام آباد آئیں گے اور دھرنے میں دوبارہ شامل ہوں گے۔

اس سے پہلے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور کے عوام نے بڑی تعداد میں آ کر فیصلہ سنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1940 میں لاہور کے عوام کی ہی سیاسی بصیرت پاکستان کی تشکیل کا باعث بنی تھی۔

جلسے میں شریک پاکستان عوامی لیگ کے رہنما شیخ رشید نے لاہور جلسے کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ لاہور میں عوام کا سمندر نکل آیا ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ ’قربانی سے پہلے قربانی ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال سے ’نواز شریف اگر سیاسی طور پر نکل جاتے ہیں تو لاہور لاہور نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عوام کی طاقت کو نہ مانا گیا تو یہ (شریف) خاندان سیاست کی دنیا سے مٹ جائے گا۔‘

جلسے میں عمران خان کے ہمراہ جہانگیر ترین، خورشید قصوری، شیخ رشید، شاہ محمود قریشی، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی موجود رہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے لاہور میں ہونے والے جلسے میں جوش و خروش اور جذبہ تو پچھلے دو جلسوں والا ہی تھا تاہم اس دفعہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے شرکائے جلسہ ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگاتے ہوئے پنڈال میں داخل ہوئے اور جلسے کے اِختتام پر بھی اُن کی زبان پر یہی الفاظ تھے۔

جہاں گو نواز گو کے نعرے لگانے والوں میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی تھی وہیں ان میں ایسے نوجوان بھی تھے جنھیں استعفیٰ مانگنے کے لیے دھرنے کے طریقے پر اعتراض تھا۔

ایسے ہی ایک نوجوان سلمان طاہر کا کہنا تھا کہ ’اگر آج نواز شریف سے دھرنے کے ذریعے استعفی لے لیا گیا تو کل کو لوگ عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد اُن سے بھی اِسی طرح استعفی کا تقاضا کر سکتے ہیں۔‘