’جلسے کے لیے مرضی کی جگہ دے دی مگر ریڈ زون کا رخ نہ کریں‘

نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشننواز شریف کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے والوں کو جلسے کے لیے ان کی مرضی کی جگہ دی جا رہی ہے لیکن اگر ریڈ زون کے سکیورٹی حصار کو توڑا گیا تو قانون حرکت میں آئے گا۔

جمعرات کی شب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو تحریکِ انصاف کے بعد اب عوامی تحریک کی جانب سے بھی جلسے کے انعقاد کی درخواست موصول ہو گئی ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے احترام میں لاہور سے کنٹینرز اٹھا دیے گئے تاہم اسلام آباد سے کنٹینرز اس لیے نہیں ہٹائے گئے کہ ابھی ضلعی انتظامیہ نے درخواست پر جواب نہیں دیا۔

نثار علی خان کا کہنا تھا یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو بھی اسلام آباد میں داخلے سے روکا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ وہ فیض آباد کا راستہ کھولیں لیکن لانگ مارچ کے شرکا کو وہاں گاڑیاں چھوڑ کر پیدل زیرو پوائنٹ تک آنے کی اجازت ہوگی۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اطلاع ملی ہے کہ عوامی تحریک کا لانگ مارچ جمعے کی صبح دارالحکومت پہنچے گا جبکہ ’پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اب تک لاہور میں ہی گھوم رہا ہے اور امید ہے کہ وہ بھی کل صبح تک اسلام آباد میں پہنچ جائے گا۔‘

ان کے مطابق ’عمران خان نے کہا تھا کہ وہ دس لاکھ لوگوں کو لائیں گے اور حکومت نے بھی دس لاکھ لوگوں کے لیے انتظام کیا ہے۔‘

زیرو پوائنٹ کے علاقے کو ایک بار پھر کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنزیرو پوائنٹ کے علاقے کو ایک بار پھر کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے

انھوں نے کہا کہ ’وہ چاہتے تھے کہ یہاں زندگی مفلوج کریں لیکن ہم نے ان کی مرضی کے مطابق جگہ متعین کر دی ہے۔‘

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ ریڈ زون کی سکیورٹی تین گنا بڑھا دی گئی ہے اور ’کوئی کسی ابہام میں نہ رہے کہ اگر ریڈ زون کی سکیورٹی کو توڑا گیا تو قانون سختی سے حرکت میں آئے گا۔‘

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ انھیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کی مشکلات کا اندازہ ہے اور جمعے کو چند مخصوص راستوں کے علاوہ دونوں شہروں کے راستے کھل جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حالات کنٹرول میں ہیں، آپ مطمئن رہیں۔ یہ اندھیر نگری نہیں ہے کہ کوئی یہاں آکر دھماچوکڑی مچا دے۔‘

اس سے قبل وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے زیرو پوائنٹ کا دورہ کیا ہے اور وہاں سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

زیرو پوائنٹ انٹرچینچ کے اطراف میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔

زیرو پوائنٹ پر ہی پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکن جمع ہوئے اور وہاں انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کے پتلے جلائے ہیں۔۔

اس سے قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور نے کہا تھا کہ انقلاب اور آزادی مارچ کے شرکا کو اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ تک آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جمعرات کو مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت مارچ میں قطعاً رکاوٹ نہیں بنے گی۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ طاہر القادری اور عمران خان کا مارچ پر امن رہے گا۔ ان کے بقول مظاہرین کو دارالحکومت کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ادھر اسلام آباد میں پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعداد 25 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔