زمان پارک میں رکاوٹ نہیں، ماڈل ٹاؤن میں گھیرا تنگ

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, علی سلمان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور سے پاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ اور عوامی تحریک کا انقلاب مارچ جمعرات کی صبح روانہ ہو رہا ہے۔
دونوں جماعتوں کے سربراہوں نے عدالتی تنبیہ کے بعد بھی ہر صورت مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پولیس نے بھی اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔
لاہور کے علاقے زمان پارک میں عمران خان کے گھر کے باہر میلے کا سماں ہے اور یہاں ملک بھر سے کارکن ٹولیوں کی شکل میں پہنچ رہے ہیں۔
زمان پارک میں نہر کے سامنے کیمپ لگائے گئے ہیں اور پورا علاقہ رنگ برنگے پوسٹرز بینروں اور عمران خان کی تصویروں سے بھرا ہوا ہے۔
ایسے ہی ایک کیمپ میں تین دن سے موجود غلام صفدر نے بتایا کہ وہ پنڈی بھٹیاں سے آئے ہیں اور ان کے ’دادا نے قیام پاکستان کے لیے جدوجہد کی تھی اور اب پاکستان کو بچانے کے لیے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
صفدر کا کہنا تھا کہ یہاں قیام کے دوران وہ کسی بھی ٹھیلے سے کھانا خرید کر کھا لیتے ہیں اور رات کو نہر کنارے اپنے جوتے سرہانے رکھ کر سو جاتے ہیں۔
تحصیل کوٹ ادو سے آنے والے کارکن عرفان احمد انصاری نے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ پولیس انہیں روکے گی اور مسلم لیگ نون کے کارکنوں سے بھی جھڑپ ہو سکتی ہے لیکن وہ ’سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں۔‘
زمان پارک میں پولیس کے اکا دکا مسلح اہلکار کارکنوں کے درمیان پھرتے ہوئے سیاسی کارکن ہی لگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زمان پارک کی حد تک پولیس کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے البتہ وہاں آنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں انہیں روکا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عوامی تحریک کا اجتماع ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے سامنے ہے جہاں کارکن تقریبا چار روز سے موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس نے اس علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور مرکزی راستوں پر کنٹینرز لگائے گئے ہیں۔
عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ ان کے ہزاروں کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔
عوامی تحریک کے کارکنوں کے پولیس سے تصادم میں گزشتہ دو مہینوں کے دوران 20 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
جماعت کے سربراہ طاہر القادری اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اب تک آٹھ مقدمات قائم کیےگئے ہیں لیکن طاہر القادری نے بھی اعلان کیاہے کہ ان کا انقلاب مارچ ہر صورت اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا۔







