’پاکستانی ریاست کالےدھن کےشکنجے میں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, فراز ہاشمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید احمد نے جمعہ کو وزیر اعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے ٹیکس کی ادائیگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے عمران پر ٹیکس کی چوری کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
اس کے رد عمل میں عمران خان کی طرف سے بھی حکومت پر مالی بدعنوانیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حکومتی اہلکاروں کی طرف سے یہ تیسری پریس کانفرنس تھی جس میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور اس سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کیےگئے ہیں۔ اس سے قبل نج کاری کمیش کے چیئرمین زبیر احمد اور پاکستان متروک وقف املاک بورڈ کے سربراہ صدیق الفاروق بھی اسی قسم کی پریس کانفرنسیں کر چکے ہیں۔
تحریک انصاف نے تیس نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ جیسے جیسے تیس نومبر قریب آ رہی ہے حکومت کی طرف سے تحریک انصاف کے خلاف الزام تراشیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
ٹیکس کی ادائیگی ایک نہایت ہی سنجیدہ موضوع ہے اور ملک کے ہر شہری سے قطع نظر اس کی سیاسی اور سماجی حیثیت کے ٹیکس کی وصول کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حکومت کی طرف سے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے پریس کانفرنسوں میں الزامات کاعائد کیا جانا حکومت کی اپنی نااہلی سمیت ، سیاسی مجبوریوں اور کمزوریوں سمیت کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے۔
بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میںاور سول ملٹری تعلقات پر ایک کتاب ’ملٹری ایجینسی، پالیٹیکس اینڈ سٹیٹ آف پاکستان‘ کے مصنف، ڈاکٹر اعجاز حسیننے اس تمام صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بد عنوانی کے الزامات کی موجودہ بوچھاڑ ’پولیٹکل پوائنٹ سکورنگ‘ کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ ٹیکس کی چوری ایک بہت سنجیدہ موضوع ہے بدقسمتی سے پاکستان میں اسے صرف ٹی وی مناظروں کی زینت بنایا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر اکرام الحق نے کالے دھن کے لیے ’ڈرٹی منی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اس ’ڈرٹی منی‘ کی گرفت میں ہیں اور بے اثر ہو کر رہ گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی رگوں میں دوڑتی اس ڈرٹی منی کا اصل حجم اب تک معلوم نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کل مجموعی پیداوار ڈھائی سو ارب ڈالر کے قریب ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستانی معیشت میں کالا دھن بھی اتنا ہی ہے۔
ڈاکٹر اکرام نے مزید کہا کہ سرکاری کھاتوں سے باہر یہ پیسہ دراصل تمام مسائل کی جڑ ہے۔ اسی پیسے سے افراد اور اداروں کو خریدا جاتا ہے، اداروں کو ناکام کیا جاتا ہے اور سیاست میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومتی اداروں میں کالے دھن کا بے دریغ استعمال ہی ریاست کا ماڈل بن گیا ہے۔
بدعنوانی کو ختم کرنے میں جو عوامل رکاوٹ کا باعت بن رہے ہیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ سب سے پہلے تو سیاسی عزم کی کمی ہے۔ یعنی کرپشن ختم کرنے میں حکومت سنجیدہ ہی نہیں۔
ڈاکٹر اکرام الحق اور ڈاکٹراعجاز اس بات پر یک زبان تھے کہ موجودہ الزام تراشیوں کا سلسلہ سیاسی نظام کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے سنگین الزامات کو کبھی متعلقہ اداروں شواہد کے ساتھ پیش نہیں کیا جاتا بلکہ ان الزامات کو میڈیا ٹاک شوز میں ’بغدادی مناظروں‘ کی طرح سیاسی نمبر بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔







