خوبصورتی کے معیار کو بدلنے کی کوشش

- مصنف, عنبر شمسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں ’ڈارک از ڈیوائن‘ نامی ایک ایسی تحریک شروع ہوئی ہے جس کی کوشش ہے کہ وہ خوبصورتی کے روایتی معیار کو بدل دے۔
سنہ 2013 میں شروع ہونے والی ’ڈارک از ڈیوائن‘ نامی تحریک کا یہ نیا مرحلہ ہے جس میں یونیورسٹیوں اور سکولوں میں اس پیغام کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ خوبصورتی اور قابلیت کا تعلق رنگ سے نہیں ہوتا۔
اس تحریک کی بانی فاطمہ لودھی نے اسلام آباد کی نسٹ یونیورسٹی میں ہونے والے سیمینار کے بعد بی بی سی اردو کو بتایا: ’انھیں فیس بک کے ذریعے خواتین اور مردوں کی جانب سے اس تفریق سے متعلق بہت سی کہانیاں موصول ہوئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چیز روز مرہ زندگی کا حصہ ہے۔‘
MAPگورے رنگ کی بحثگورے رنگ کی بحثرنگت گورا کرنے کا دعویٰ کرنے والے ایک صابن کے اشتہار نے پاکستان میں عوام کی گوری رنگت کے حوالے سے ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ 2014-06-25T20:54:31+05:002014-06-25T21:18:11+05:002014-06-25T21:18:11+05:002014-06-25T21:19:00+05:00PUBLISHEDurtopcat2
مہم میں شریک ایک لڑکی نے لکھا کہ بچپن میں اس کے دوست اس کے ساتھ اس لیے نہیں کھیلتے تھے کیونکہ اس کا رنگ صاف نہیں ہے۔
اس لڑکی کے دوست اسے کہتے تھے کہ وہ اس کے ساتھ کھیل کر میلے ہو جائیں گے۔
ایک اور لڑکی نے بتایا: ’میرے گھر والے میرا مذاق اڑاتے تھے۔ میری بہن کا رنگ صاف تھا تو اسے دن کہتے تھے اور مجھے رات۔‘
فاطمہ لودھی کے ساتھی زاہد شفیق نے بتایا کہ انھیں امید ہے کہ اس تحریک سے معاشرے میں حسن کے معیار پر بحث شروع ہو گی جس کی بنیاد سکولوں میں ڈالی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم پہلے سکولوں میں اساتذہ کو تربیت دیں گے اور پھر یونیورسٹیوں میں مزید سیمینار کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم سکولوں کے لیے اس موضوع پر نصاب بھی تشکیل دے رہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہمارا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔‘
تاہم انھوں نے بتایا کہ اس سے ملتی جلتی بھارتی مہم کی طرح انھیں بھارتی اداکارہ نندتا داس کی طرح کی سٹار نہیں ملیں کیونکہ پاکستان میں ان سے سب سے پہلے پوچھا گیا کہ اس مہم کا بجٹ کتنا ہے اور ان کا جواب تھا بہت کم۔

’ڈارک از ڈیوائن‘ کے روابط ایک امریکی تحریک ’آئی ایم بیوٹی فل گلوبل‘ سے بھی ہیں جس کی بانی ڈاکٹر ڈونا ماریا کلبریتھ نے بھی سیمنار میں وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
ان کی کوشش ہے کہ سانولے یا سیاہ رنگ کی خواتین میں اعتماد پیدا ہوا۔
تاہم فاطمہ کہتی ہیں کہ امریکہ کے برعکس جنوبی ایشیا میں سانولے یا سیاہ رنگ کے خلاف امتیاز کا تعلق نسل سے نہیں ہے۔
نسٹ یونیورسٹی کی ایک طالبِ علم آتکا نے بتایا کہ ان کے سانولے رنگ کے باعث انھیں لوگوں سے باتیں تو سننی پڑیں لیکن اس سے ان کا خود میں اعتماد ایسا ہے کہ انھیں فرق نہیں پڑا۔
’ میرے رشتہ دار کہتے ہیں کہ میرا رنگ کالا ہے لیکن میں متاثر نہیں ہوئی۔ میرے والد کا رنگ سانولا ہے، لیکن وہ کامیاب شخص ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ رنگ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
ایک اور طالبِ علم فائزہ نے کہا کہ لوگوں کو ظاہری حسن سے آگے بڑھنا چاہیے۔
’ہم جو بھی ہیں ہم میں خود اعتمادی ہونی چاہیے۔ ہمیں ظاہری حلیے پر نہیں جانا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کوئی شحض کتنا باصلاحیت ہے اور دوسروں کی کتنی عزت کرتا ہے۔‘
اس پیغام کو اس طرح کے سیمینار اور سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ تو مل رہا ہے لیکن کس حد تک موثر رہے گا؟
ایک طرف رنگ کی بنیاد پر امتیاز معاشرے اور ثقافت کا حصہ ہے اور دوسری جانب گورے پن کی کریموں کی اربوں روپے کی صنعت ہے جو اشتہاروں کے ذریعے اپنا پیغام زیادہ لوگوں تک پہنچاتی ہے۔
فاطمہ کہتی ہیں: ’اشتہارات اور ڈراموں کے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر آپ گورے ہیں تو آپ کامیاب ہوں اور زیادہ رشتے آئیں گے لیکن پاکستانی قانون کہتا ہے کہ ایسا اشتہار یا پروگرام جس سے تفریق پیدا ہوتی ہے، اسے نشر نہیں کیا جا سکتا۔‘
زاہد کہتے ہیں: ’ڈارک از ڈیوائن‘ مہم گورے پن کی کریمیں بنانے والی کمنیوں کو اپنی مصنوعات بیچنے سے روک نہیں سکتی لیکن وہ قانون کا سہارا ضرور حاصل کر سکتے ہیں تاکہ ان کمپنیوں کا طریقۂ کار تبدیل ہو۔‘
پاکستانی معاشرے میں کالی کلوٹی، نظر وٹو اور کلو جیسے الفاظ عام ہے۔ لیکن فاطمہ پر عزم ہیں کہ وہ سیاہ اور سانولے کے مفہوم اور تاثر کو نہ صرف پاکستان میں بدل سکیں گی بلکہ اپنا پیغام پوری دنیا تک پہنچائیں گی۔







