پولیو ڈے پر تین مزید کیس

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عنبر شمسی اور رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
عالمی پولیو دن کے موقعے پر پاکستان میں پولیو کے تین نئے کیس سامنے آئے ہیں جن کے بعد اب تک اس سال پولیو کے کل کیسوں کی تعداد 220 ہو گئی ہے۔
گذشتہ ایک دہائی میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ تازہ کیس صوبہ بلوچستان میں ژوب اور کراچی کے علاقے کورنگی سے منظرِ عام پر آئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پائے جانے پولیو کیسوں میں سے 80 فیصد پاکستان میں ہیں۔
وزیرِ اعظم نواز شریف کے پولیو سیل کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ انسدادِ پولیو پرواگرام میں کمزوریاں ہیں جن میں معیار کے مسائل شامل ہیں، اور ان کو ٹھیک کرنے کے لیے حکومت حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے۔
’ہم نومبر میں صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اجلاس کر رہے ہیں جس میں پروگرام میں سکیورٹی اور معیار کے مسائل کے حل نکالے جائیں گے اور اس بات کی یقین دہانی کروائی جائے گی کہ ہر انسدادِ پولیو مہم میں پر بچے کو قطرے پلائے جائیں۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے دباؤ بہت شدید ہے: ’جب دنیا پولیو وائرس کے خاتمے کے قریب ہو، اور اس میں ایک یا دو ممالک پیچھے رہ جائیں تو اس دباؤ کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔‘
لیکن انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’نائجیریا، افغانستان اور شام جیسے ممالک کے ساتھ پاکستان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہمارا واحد ملک ہے جہاں ڈھائی سالوں سے شدت پسندوں کی جانب سے ایک پورے خطے کے بچوں تک رسائی نہیں ہو پائی۔‘
خیال رہے کہ شام میں پائے جانے والے پولیو وائرس کا جینیاتی تعلق پاکستان سے نکلا تھا، جبکہ افغانستان اور نائجیریا میں شورش اور شدت پسندی کے باوجود اس سال پولیو کے کیس کم ہوئے ہیں۔
عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن اور رہائشیوں کے انخلا کی وجہ سے حکومت کو چیلنج کا سامنا کرنا پڑا اور ایک موقع بھی فراہم ہوا:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’سب سے زیادہ کیس قبائلی علاقوں سے ہی آئے ہیں اور خدشہ یہ ہے کہ وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔ لیکن ہمیں ان تین لاکھ بچوں تک رسائی کا موقع بھی ملا جنھیں ہم جولائی 2012 سے قطرے نہیں پلا سکے۔‘

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس سال جون سے لے کر اب تک سات لاکھ بے گھر افراد کو قطرے پلائے ہیں۔ یہ مہمات نہ صرف آپریشن سے متاثرہ افراد کے لیے قائم کئے گئے خیمہ بستیوں اور داخلی اور خارجی راستوں میں ہوئیں بلکہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعوں، پشاور، کراچی اور پنجاب میں بھی خصوصی مہمات چلائی گئیں۔
عائشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نے اس مضر بیماری پر قابو پانے کے لیے اپنا عزم دہرایا ہے اور اس سلسلے میں داخلہ، قومی صحت کی سہولیات اور دفاع کی وزارتوں کو ان بچوں تک رسائی اور سکیورٹی کے مسائل کے حوالے سے اطلاع دے دی گئی ہے جبکہ انسدادِ پولیو مہم واحد سماجی پروگرام ہے جس میں وزیرِ اعظم نے خود فوج کے سربراہ کا تعاون حاصل کیا ہے۔







