کراچی میں پولیو کی صورتِحال تشویشناک ہے:وزیرِ صحت

،تصویر کا ذریعہap
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
صوبہ سندھ کے وزریرِ صحت نے کراچی میں پولیو کے حوالے سے صورتِ حال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال سندھ میں پولیو کے 18 کیسز سامنے آئے جن میں سے 17 کراچی میں ہیں۔
محکمہ صحت کے صوبائی وزیر ڈاکٹر صغیر احمد نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی میں صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا اور بتایا کہ رواں سال پاکستان میں پولیو کے 194 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 18 صوبہ سندھ کے ہیں اور ان میں بھی سترہ کراچی میں موجود ہیں۔
’ کراچی میں پولیو سے متاثرہ بچوں میں ایک بروہی، ایک گجراتی اور باقی تمام پشتون ہیں اور یہ پشتون شمالی علاقوں میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے نقل مکانی کرکے یہاں آئے ہیں اور ایک مخصوص پروپگنڈہ سے متاثر ہوکر والدین قطرے پلانے سے انکار کردیا تھا۔ سندھ حکومت وہ بوجھ اٹھا رہی ہے جو کوئی اور نہیں اٹھا رہا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ 78 فیصد بچوں کے والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا تھا اور ان کی دیگر بیماریوں سے بچاؤ کی بھی ویکسین نہیں ہوئی تھی۔
محکمہ سندھ نے کراچی میں 41 انتہائی حساس مقامات کی نشاندھی کی ہے، ان پشتون آبادی والے علاقوں میں پولیو مہم کی کامیابی کے لیے صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او نے 700 پشتون ہیلتھ ورکرز کی تعیناتی پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
سندھ میں29 ستمبر اور یکم اکتوبر کو پانچ سال سے کم عمر کے80 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا، اس مہم میں 21 لاکھ بچے کراچی کے تھے۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے بتایا کہ کراچی کے گڈاپ، لانڈھی اور بلدیہ ٹاؤن کی دس انتہائی حساس یونین کونسل میں تجرباتی بنیادوں پر ایک12000 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی انجیکشن لگائی جائیں گی۔ سکیورٹی اور دیگر مسائل موجود ہیں لیکن ان کی کوشش ہے کہ اکتوبر کے آخر میں یا نومبر کے اوائل میں اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ انجیکشن سے پولیو وائرس بچے کے امیون نظام میں ہی مر جائے گا، جو پولیو کے بچاؤ کے قطروں سے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر صغیر کے مطابق انجیکشن لگانے کے لیے ان کے پاس مطلوبہ عملہ دستیاب ہے کیونکہ اس سے پہلے وہ خسرے سے بچاؤ کی ویکسین کرچکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی میں پیر کو کئی علاقوں میں سکیورٹی کی عدم دستیابی کے باعث مہم شروع نہیں ہوسکی تھی، بعد میں اس مہم کو مراحل میں تقسیم کیا گیا۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد کا کہنا ہے کہ انھوں نے ورکرز کو یہ واضح ہدایت کردی ہے کہ جب تک سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی وہ فیلڈ میں نہ جائیں۔ ان کے مطابق ان ورکرز کا یومیہ معاوضہ 250 روپے سے بڑھا کر پانچ سو رپے کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا۔
لندن میں پچھلے دنوں پولیو مانیٹرنگ بورڈ کا بھی اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں پاکستان کے نمائندوں نے خصوصی شرکت کی، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر نے بتایا تاحال انہیں اس اجلاس کی سفارشات سے وفاقی حکومت نے آگاہ نہیں کیا،جیسے ہی یہ سفارشات ملیں گی تو ان کو حکمت عملی میں شامل کیا جائے گا۔







