پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز بنانے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, فراز ہاشمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو کی دیرینہ ساتھی<link type="page"><caption> ناہید خان</caption><url href="\\bbccvapfs2034\Multimedia3\Old MultiMedia\Asia Pac\Urdu Service\From VCS" platform="highweb"/></link> اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر ڈاکٹر صفدر عباسی نے جمعرات کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے نام سے ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اس نئی جماعت کی تشکیل کا اعلان لاہور میں ایوان اقبال میں ناراض اور پرانے پارٹی کارکنوں کے ایک کنونشن کے دوران کیا گیا۔
کنونشن میں شامل کارکنوں نے ایک قرارداد کے ذریعے ڈاکٹر صفدر عباسی کو جماعت کا پہلا صدر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں ناہید خان نے نئی سیاسی جماعت بنانے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہونے والے ناراض کارکنوں کوئی متبادل فراہم کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ یہ گروپ پیپلز پارٹی کے لیے دیوار کا کام کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکن اور ورکر ایسے ہیں جن کے پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے شدید اختلاف ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکن سمجھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا جو نظریہ تھا اسے پارٹی پر قابض موجودہ لوگوں نے بہت دور کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ پارٹی پاکستان کے پسے ہوئے طبقوں کی پارٹی تھی جن کے حقوق کی جنگ ذوالفقار علی بھٹو نے لڑی، لیکن اس پارٹی کی موجودہ قیادت نے خود کو ایوانوں تک محدود کر دیا اور پارٹی کو خاندانی جاگیر بنا کر چلایا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں پاکستان کے ناراض ورکروں سے معافی مانگی تھی اور اس کے بعد انھوں سیاست میں آنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔
ناہید خان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں بلاول کے معافی مانگنے پر دکھ ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلاول کا تو کوئی قصور نہیں تھا لیکن انھیں پارٹی ورکروں سے معافی مانگنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔
ناہید خان نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اور پارٹی کے دیگر ناراض ورکر جو کچھ کہتے رہے ہیں، اس پر بلاول بھٹو نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’ہم یہ درست کہتے تھے کہ پارٹی کو تباہ و برباد کر کے اسے صرف سندھ کی پارٹی بنا دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا ہے اگر ان کو پارٹی سے نہ نکالا گیا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں گئی تو اس معافی تلافی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہAP
ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ نئی پارٹی بنانے پر نہ مبارکباد وصول کر رہی ہیں اور نہ ہی افسوس کا اظہار کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت تھی۔
انھوں نے کہا کہ پارٹی ورکروں کو پارٹی سے کوئی علیحدہ نہیں کر سکتا: ’ہماری وفا گڑھی خدا بخش میں ان دو قبروں سے ہے۔‘
پارٹی کے مستقبل اور ممکنہ اتحاد کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کی دعائیں اور نیک تمنائیں بلاول کے ساتھ ہیں۔
ناہید خان نے کہا کہ بلاول کے سامنے راستہ بڑے واضح ہے کہ وہ گذشتہ سات سال میں جو ان کے والد صاحب اور ان کے خاندان کا جو بوجھ ہے اس کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا کھل کر اپنے نانا اور اپنی والدہ کے نظریے اور ورثے کو ساتھ لے کر چلانا چاہتے ہیں۔







