بینظیر کی وطن واپسی کے دن بلاول بھٹو کی لانچنگ

سات سال قبل 18 اکتوبر کو ہی بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس لوٹی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسات سال قبل 18 اکتوبر کو ہی بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس لوٹی تھیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

پاکستان پیپلز پارٹی نے 18 اکتوبر کو کراچی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنما خطاب کریں گے۔

سات سال قبل اسی روز سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس لوٹی تھیں اور ان کے اسقبالیہ جلوس میں بم دھماکہ کیا گیا تھا۔

کراچی میں پیر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’بلاول بھٹو اسی جگہ سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کریں گے اور اس کو حتمی انجام تک لے کر جائیں گے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بلاول اس ملک میں استحکام لائیں گے، جمہوریت اور اداروں کو مضبوط کریں گے۔‘

’اس وقت جو قیادت بینظیر بھٹو کے ساتھ تھی وہ عہد کرتی ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ہوگی اور مل کر بینظیر بھٹو کے مشن کو مکمل کریں گے، بلاول بھٹو کی قیادت میں پارٹی مزید فروغ اور پذیرائی حاصل کرے گی۔‘

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ملک میں آج بھی ایسے حالات ہیں جو جمہوریت، پارلیمنٹ، آئین اور اداروں کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے، اور اس وقت عوام کی نظریں نوجوان قیادت پر ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ روز کارکنوں اور ہمدروں سے ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگی تھی اور درخواست کی تھی کہ وہ واپس پارٹی کی صفوں میں شامل ہوں۔ یہ معافی لاہور میں تحریک انصاف کے ایک بڑے اجتماع کے فوری بعد سامنے آئی تھی۔

یوسف رضا گیلانی نے بلاول بھٹو کی معافی کے حوالے سے کہا کہ پارٹی میں ایک جیالے ہوتے ہیں دوسرے ذمہ داران اور ٹکٹ ہولڈر ہوتے ہیں لیکن بلاول بھٹو ان لوگوں کو مخاطب تھے جو ہمدرد ہیں، ان سے ہی انھوں نے معذرت کی ہے تاکہ اگر کچھ دوریاں پیدا ہوئی ہیں تو انہیں واپس آنا چاہیے کیونکہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کا پروگرام لے کر آئے ہیں۔

عمران خان کی مقبولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ان کی اپنی پارٹی اور پروگرام ہے، جس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو اس نے ایک طویل جنگ اور جستجو کی ہے، وہ کبھی اقتدار میں نہیں آئے جبکہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آتی بھی رہی ہے اور جاتی بھی رہی ہے۔

گذشتہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے بعد کئی بار پارٹی کی از سر نو تنظیم کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی موجود ہے، 1997 میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ معاملہ ہوا تھا، جب دھاندلی کے ذریعے اس کا صفایا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اگلے انتخابات میں وہ پہلے سے بھی زیادہ اکثریت سے سامنے آئے تھے۔

یوسف رضا گیلانی نے فرینڈلی اپوزیشن کے تاثر کو مسترد کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں ہے لیکن اس کے علاوہ سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اس کی حکومت ہے، سینیٹ میں بھی اس کو اکثریت حاصل ہے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ان کا ہے۔ اس لیے وہ گورنمنٹ ان ویٹنگ ہیں۔ وہ حقیقی اور ذمہ دار اپوزیشن ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں جس سے ان کے قائدین کے ویژن کو کوئی نقصان پہنچے۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے تمام مسائل سے آگاہ ہیں، اس وقت دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس کو کوئی بڑی جماعت ہی ختم کرسکتی ہے جس کی شاخیں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں ہوں۔ دوسرا مسئلہ توانائی کا بحران ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے 3400 میگاواٹ قومی گرڈ میں شامل کیے تھے، وہ ان مسائل کو حل کرسکتے تھے لیکن سب کو معلوم ہے کہ ان کی راہ میں کیا رکاوٹیں حائل تھیں۔