خیبر ایجنسی: سپاہ میں پیش قدمی، چھ شدت پسند ہلاک

گذشتہ روز بدھ کو بھی سپاہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ روز بدھ کو بھی سپاہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں چھ شدت پسند ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار تحصیل باڑہ میں سپاہ کے علاقے میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔

جمعرات صبح عالم گدر کے مقام پر شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری تھی۔

حکام نے بتایا کہ اس جھڑپ میں چھ شدت پسندوں کی ہلاکت اور سات کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔

ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق غیر قانونی شدت پسند تنظیم لشکر اسلام سے بتایا گیا ہے ۔

گذشتہ روز بدھ کو بھی سپاہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جبکہ سکیورٹی فورسز کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے سپاہ کے علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔

خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن خیبر ون گذشتہ چھ روز سے جاری ہے جس میں سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی ہیں۔

اس آپریشن کے نتیجے میں علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے مطابق اب تک پانچ ہزار سے زیادہ خاندان نقل مکانی کر کے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پہنچے ہیں۔ انفرادی طور پر ان کی تعداد 41 ہزار ہے جن میں 21 ہزار سے زائد بچے اور 10 ہزار تک خواتین شامل ہیں۔