آپریشن خیبر ون: شدت پسندوں کےٹھکانوں پر حملے

سکیورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآپریشن خیبر ون میں فوج اور فرنٹیئر کور کے دستے شامل ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ باڑہ سب ڈویژن کے علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن خیبر ون کے دوسرے روز سکیورٹی فورسز کی طرف سے تازہ کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں کم از کم دس عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاع ہیں۔

فاٹا کے سیکرٹری برائے لا اینڈ آرڈر شکیل قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ آپریشن میں فوج اور فرنٹیئر کور کے دستے حصہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خیبر ون ’ ٹارگٹ ٹیڈ‘ آپریشن ہے جو باڑہ کے علاقوں کھجوری پلینز اور برقمبر خیل میں کیا جا رہا ہے۔

شکیل قادر کے مطابق آپریشن کے باعث اب تک علاقے سے 375 خاندانوں نے گھر بار چھوڑ کر اورکزئی ایجنسی کے راستے سے ہنگو اور دیگر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بے گھر افراد کی کل تعداد تین ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ متاثرین کےلیے ہنگو میں پہلے سے قائم پناہ گزین کیمپ میں رہنے کا بندوبست کیاگیا ہے لیکن ابھی تک وہاں کوئی متاثرہ خاندان نہیں جا سکا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ باڑہ میں گزشتہ دو دنوں سے کرفیو نافذ ہے اور علاقے کی طرف آنے جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آکاخیل، سپاہ اور ملک دین خیل کے علاقوں میں لشکر اسلام اور دیگر عسکری تنظیموں کے مراکز پر بھی فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ جمعہ کو ہونی والی سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائیوں میں کم از کم دس عسکریت پسندوں مارے گئے ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

اس سلسلے پشاور میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں مل سکی۔ اس کے علاوہ فوج کی طرف سے بھی آپریشن خیبر ون کے حوالے سے تاحال کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز وادی تیراہ میں ہونے والی فصائی کارروائی میں فوج کے دعوے کے مطابق کم سے کم 21 عسکریت پسند مارےگئے تھے جبکہ ان کے پانچ ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیاگیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاؤان کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔ حکام اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے ان واقعات کا الزام باڑہ میں سرگرم شدت پسندوں پر لگایا جاتا رہا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر ایجنسی میں اس سے پہلے شدت پسندوں کے خلاف متعدد مرتبہ کارروائیاں کی جا چکی ہے لیکن سکیورٹی فورسز اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان آپریشنوں کی وجہ سے باڑہ سے لاکھوں لوگ گزشتہ کئی سالوں سے بے گھر ہوکر پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ حالیہ آپریشن ایسے وقت شروع کیا گیا ہے جب ایک اور قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھی فوج کی طرف سے ضرب عضب کے نام سے شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔