تیراہ میں طیاروں کی بمباری، ’21 شدت پسند ہلاک‘

فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان فضل اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی کی نسبت اس سال تشدد کے واقعات میں اب تک کمی دیکھی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہPAF

،تصویر کا کیپشنفاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان فضل اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی کی نسبت اس سال تشدد کے واقعات میں اب تک کمی دیکھی جا رہی ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے علاقے اکا خیل میں پاکستانی فوج کے جنگی طیاروں کی بمباری سے حکام کے مطابق 21 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

اکاخیل کے علاقے سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی شروع کر دی ہے ۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق یہ کارروائی محدود پیمانے پر کی گئی جس میں شدت پسندوں کے پانچ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی طیاروں نے مختلف مقامات پر بمباری کی ہے جس میں 21 شدت پند مارے گئے ہیں۔

خیبر ایجنسی کا یہ علاقہ اورکزئی ایجنسی کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں مواصلاتی نظام نہیں ہے جس کی وجہ سے وہاں پر آزاد ذرائع سے رابطہ نہیں ہو سکتا۔

وادی تیراہ میں گذشتہ سال سے مختلف مقامات پر اس طرح کی بمباری کی جاتی رہی ہے لیکن شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد اب خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں بھی فضائی حملے بڑھ گئے ہیں۔

گذشتہ روز وادی تیراہ میں پیر میلہ کے مقام پر ایک خود کش حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 19 زخمی ہو گئے تھے۔

خیبر ایجنسی مہمند ایجنسی اور باجوڑ ایجنسی میں اس سال تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مہمند ایجنسی میں تین ماہ میں تشدد کے 24 سے زیادہ واقعات پیش آچکے ہیں ۔

پشاور میں فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان فضل اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی کی نسبت اس سال تشدد کے واقعات میں اب تک کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال قبائلی علاقوں میں تشدد کے مختلف واقعات میں 32 عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے 45 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیرِستان میں فوجی آپریشن کامیابی سے جاری ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں حکومت کی عملداری قائم ہو چکی ہے۔

خیبر ایجنسی میں مختلف شدت پسند تنظیمیں متحرک ہیں جن میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ لشکرِ اسلام نمایاں ہے۔ حکومت کی حمایتی تنظیمیں بھی ان علاقوں میں قائم ہیں۔

وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے بمباری کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد مقامی لوگوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ دو روز میں پانچ سو کے لگ بھگ خاندان نقل مکانی کرکے اورکزئی ایجنسی میں داخل ہوئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ آج یعنی جمعرات کو بھی وہاں سے 70 سے 80 خاندان نقل مکانی کرگئے ہیں جن کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔