امن کے لیے مذاکرات ضروری، عالمی اردو کانفرنس

اردو کانفرنس
،تصویر کا کیپشنکانفرنس میں اردو اور دوسری قومی زبانوں میں تدریس اور تراجم کی ضرورت پر زور دیا گیا
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں چار روز تک جاری رہنے والی کراچی آرٹس کونسل کی ساتویں عالمی اردو کانفرنس اتوار کی رات ختم ہو گئی۔ کانفرنس کے مندوبین نے برصغیر میں امن اور امن کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

کانفرنس میں پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک ، فن لینڈ، ایران اور مصر کے مندوبین شریک تھے۔

ہندوستان سے مختلف اسباب کی بنا پر مقبول نغمہ نگار جاوید اختر سمیت کئی مندوب شریک نہیں ہو سکے۔

آخری روز کل چھ اجلاس اور آخر میں نوجوانوں کی موسیقی کا پروگرام ہوا۔

اختتامی اجلاس میں انتظار حسین کا کہنا تھا کہ انھیں یہ کانفرنس پچھلی کانفرنس کی نسبت زیادہ کامیاب دکھائی دی۔ خطروں کے درمیان گزر بسر کرنا کراچی کا شیوہ ہے اور اس شہر نے ان خطرات کے درمیان جینے کے آداب سیکھ لیے ہیں۔

ممتاز افسانہ نگار اور کالم نگار مسعود اشعر نے کہا کہ لاہور میں بھی ایسی کانفرنسیں ہوتی ہیں لیکن جتنی بڑی تعداد کراچی کی کانفرنسوں میں شریک ہوتی ہے اتنی وہاں نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ جیسے میڈیا اس کانفرنس کو لوگوں تک پہنچاتا ہے اور اس پر بات کی جاتی ہے وہ از خود اس کانفرنس کی کامیابی کی دلیل ہے۔

لندن سے آئے رضاعلی عابدی نے کہاکہ میڈیا سوال کرتا ہے کہ اس کانفرنس سے حاصل کیا ہوا؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ انھوں نے کانفرنس کے ہر اجلاس میں کچھ نہ کچھ علم بٹورا ہے اور آج تو حالی اور شبلی کے بارے میں ایسا علم حاصل ہوا کہ جس کا انھیں پہلے بالکل ادراک نہ تھا۔

ہندوستان سے آنے والے مندوب ڈاکٹر انیس اشفاق نے کہا کہ انھوں نے اس سے پہلے کسی ادبی کانفرنس میں اتنے بڑے مجمعے کو اتنا تحمل والا نہیں دیکھا اور وہ ہندوستان جا کر بتائیں گے کہ ادبی کانفرنسوں کو کیسا ہونا چاہیے۔

کراچی آرٹس کونسل کے صدر پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے کہا کہ وہ آرٹس کونسل اور کراچی کی جانب سے تمام مندوبین کے ممنون ہیں جنھوں نے نہ صرف کانفرنس میں شرکت کی بلکہ پورے چار دن اپنی علمیت سے ہمیں سیراب کیا۔

اختتامی اجلاس کے صدر الصدور انتظار حسین تھے جب کہ مجلسِ صدارت اسد محمد خان، افتخار عارف، پروفیسر سحرانصاری، رضاعلی عابدی، مسعود اشعر، فرہاد زیدی، امجد اسلام امجد، امینہ سید، نور الہدی شاہ، ڈاکٹر انیس اشفاق، حسینہ معین، اعجاز فاروقی، محمود احمد خان، شہناز احمد صدیقی اور ڈاکٹر ہما میر پر مشتمل تھی۔

کانفرنس کے آخری اور چوتھے دن پانچ اجلاس ہوئے۔ پانچویں اجلاس میں ضیا محی الدین نے محمد حسین آزاد، میر باقر علی داستان گو اور ابنِ انشا کی نثر سے اقتباسات اور میرا جی اور عشرت آفریں کی نظموں کی اپنے مخصوص انداز میں قرات کی جسے بےحد پسند کیا گیا۔

کانفرنس کے آخری روز کا پانچواں اجلاس ’خطے میں امن کے مسائل‘ پر تھا جس سے رضا علی عابدی، مسعود اشعر، افتخار عارف اور امینہ سید نے خطاب کیا اور خطے کے لیے امن اور امن کے لیے مذاکرات اور تجارت کے فروغ پر زور دیا۔

آخری روز کا تیسرا اجلاس ’اردو ڈرامہ، روایت اور مسائل‘کے موضوع پر تھا۔ اجلاس کی صدارت کمال احمد رضوی نے کی جب کہ دیگر مقررین میں اصغر ندیم سید، طلعت حسین، عطاالحق قاسمی، امجد اسلام امجد، حسینہ معین اور اقبال لطیف شامل تھے۔ نظامت کے فرائض زین احمد نے انجام دیے۔

کانفرنس کے آخری دن کا دوسرا اجلاس ’حالی اور شبلی کا جشنِ صد سال‘ کے عنوان سے تھا۔ اس سے پروفیسر قاضی افضال حسین (علی گڑھ، ہندوستان)، ڈاکٹر نعمان الحق اور فراست رضوی نے خطاب کیا۔ اس اجلاس کے لیے ہندوستان سے شمیم حنفی بھی متوقع تھے جو اپنی علالت کے سبب نہیں آ سکے۔

ساتویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری دن کی ابتدا ’اردو زبان اور نعتیہ ادب‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس سے ہوئی۔ جس کی صدارت افتخار عارف نے کی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے۔

آخری روز منظور کی جانے والی قرارداد میں پاکستانی قومی زبانوں میں روابط کے فروغ، ان زبانوں میں پرائمری تعلیم کی سہولت، فارن لینگویج میں طبقاتی امتیاز کے خاتمے، تراجم کے لیے ہر سطح پر اداروں کے قیام، پاکستان اور ہندوستان میں امن رشتوں کی بحالی، دونوں ملکوں میں کتابوں کی ترسیل، ڈاک خرچ میں کمی، ادیبوں، تاجروں، صنعت کاروں کو ویزوں کی فراہمی میں سہولت اور پولیس رپورٹنگ سے استثنٰیٰ، اور نوجوانوں کو تہذیبی اور ثقافتی اقدار سے روشناس کرانے کے خصوصی اقدام کے مطالبات کیے گئے۔