سندھ میں سیلاب کا خطرہ، آبادی کا انخلا

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں سے آٹھ لاکھ افراد کے انخلا کا اعلان کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ آج یعنی منگل سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی محکمے کے ڈائریکٹر جنرل سلمان شاہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کچے کے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
حکام کے دریائے سندھ سے ملحقہ کچے کے علاقے کی 26 لاکھ آبادی ہے، جو گدو سے لے کر کیٹی بندر تک پھیلی ہوئی ہے۔ گدو اور سکھر بیراج کے درمیان آٹھ لاکھ لوگ آباد ہیں جہاں آنے والے دنوں میں پانی کا دباؤ رہے گا۔
سندھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق نوشہرو فیروز سے نیچے دریائے سندھ کی چوڑائی زیادہ ہے اس لیے وہاں سے کوٹری تک پانی کی سطح بلند نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں اگلے دو ہفتوں میں گدو اور سکھر بیراج کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جہاں سے محکمۂ آبپاشی کے مطابق سات لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزر سکتا ہے۔
سندھ میں بحالی اور آفات سے نمٹنے کے محکمے نے دو روز قبل ایک تحریری الرٹ جاری کیا ہے جس میں 17 اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریائے سندھ کے کچے سے لوگوں کے انخلا کی پیشگی منصوبہ بندی کر لیں اور لوگوں کو محفوظ جگہ تک پہنچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹرانسپورٹ کا بندوسبت کیا جائے۔
بحریہ ، فضائیہ اور بری فوج کو الرٹ رہنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ بوقت ضرورت لوگوں کے انخلا میں ان کی مدد حاصل کی جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متعلقہ اضلاع میں محکمہ صحت کے تمام مراکز میں سانپ کے کاٹے سے بچاؤ کی ویکسین سمیت تمام ادویات کی موجودگی کو یقینی بنانے اور محکمہ لائیو سٹاک کو جانوروں کے چارے کا بندوبست رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریائے سندھ کے بائیں اور دائیں جانب حفاظتی بندوں پر 45 مقامات کو غیرمحفوظ قرار دیا گیا ہے، جہاں پتھروں سے حفاظتی بندوں کو مضبوط کرنے اور 24 گھنٹے گشت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینیج اتھارٹی یعنی سیڈا کے ایم ڈی زاہد جونیجو کا کہنا ہے کہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں پہلے بھی شگاف پڑ چکے ہیں، جہاں سیلابی پانی براہ راست حفاظتی بند سے ٹکراتا ہو، کوئی بند کمزور ہو، یا وہاں سے پانی گزرتا ہو۔
زاہد جونیجو نے کہا کہ دس ستمبر سے 15 ستمبر تک اونچے درجے کا سیلاب رہے گا: ’امکان تو سات لاکھ کیوسک سے زائد پانی کی آمد کا ہے لیکن تیاری سپر فلڈ کی ہے۔‘
محکمۂ آبپاشی کے مطابق سکھر اور گدو بیراج کے درمیان پانی کا دباؤ رہے گا، جب کہ اس کے درمیان میں ٹوڑھی اور قادر پور حفاظتی بند زیادہ حساس ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ 2010 میں ٹوڑھی بند میں شگاف پڑنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔
گدو بیراج سے پانی کے انخلا کی گنجائش 12 لاکھ کیوسک ہے جبکہ 2010 کے سیلاب میں یہاں سے ساڑھے 11 لاکھ کیوسک پانی گزرا تھا۔ اسی طرح سکھر بیراج سے انخلا کی گنجائش نو لاکھ کیوسک ہے اور سپر فلڈ میں یہاں سے ساڑھے 11 لاکھ کیوسک پانی گزرا تھا۔
بلوچستان کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان سے آنے والے برساتی پانی اور موسلا دھار بارش نے2010 میں سندھ میں صورتِ حال کو سنگین کر دیا تھا۔
ادھرمحکمۂ موسمیات کے مطابق سندھ میں اگلے ہفتے مزید بارشوں کا امکان ہے۔
2010 کے سپر فلڈ کے بعد سندھ میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی بندوں کی مرمت کا کام کیا گیا تھا، لیکن اگلے تین سال سیلابی صورتِ حال کا سامنا نہیں ہوا۔







