’ہزاروں افراد کے محصور ہونے سے لاعلم ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
قبائلی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقوں رزمک سب ڈویژن اور عیدک میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
پشاور میں ایف ڈی ایم کے ترجمان محمد حسیب خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ یا کسی دوسرے ادارے کی طرف سے سرکاری طور پر انھیں ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ علاقے میں مقامی باشندے مشکلات کا شکار ہیں۔
محمد حسیب خان کے بقول ’ہمیں صرف عیدک کے علاقے کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہاں سے پانچ ہزار افراد نقل مکانی کریں گے جس کے لیے ایف ڈی ایم اے کی طرف سے پہلے ہی سے آٹھ ہزار افراد کا بندوبست کیا گیا لیکن بعد میں وہ نقل مکانی نہیں ہو سکی۔‘
انھوں نے کہا کہ عیدک کے لوگوں کے لیے رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں دس ہزار کے قریب خیمے بھجوائے جا چکے ہیں، اس کے علاوہ اب تک مقامی انتظامیہ کی جانب سے اور کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔
ترجمان نے اس بات سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا کہ رزمک، دوسلی، گڑیوم اور عیدک کے طالب علموں کو راستوں کی بندش کی وجہ سے وزیرستان کے اندر یا باہر واقع تعلیمی اداروں میں جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
تاہم انھوں نے کہا کہ وہ خود ان اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر اس میں حقیقت ہوئی تو ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائےگی اور وہ خود اس کی نگرانی کریں گے۔
ایف ڈی ایم اے کے ترجمان نے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد کی بارے میں کہا کہ اب تک 54 ہزار خاندانوں کی نادار سے تصدیق کرائی جا چکی ہے جبکہ دیگر خاندانوں کی تصدیق کا عمل مسلسل جاری ہے۔
شمالی وزیرستان کی تحصلیوں رزمک، دوسلی، گڑیوم ، شواء اور سپین وام میں فوج کی طرف سے آپریشن نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگ اپنے اپنے مقامات پر موجود رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اردگرد کے علاقوں میں آپریشن کی وجہ سے سڑکوں اور راستوں کی بندش کے باعث اب ان علاقوں میں خوراک اور اودیات کی قلت پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے لوگ اب اپنے طورپر دور دراز اور پہاڑی راستوں سے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق راستوں کی بندش کے باعث علاقے کے کئی طالب علم پھنس کر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کا تعلیمی سلسلہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔







