آپریشن ضربِ عضب منصوبے کے مطابق جاری ہے: پاکستان فوج

پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب منصوبے کے مطابق جاری ہے اور ریاست شدت پسندوں کو ان علاقوں میں دوبارہ اپنی عمل داری قائم کرنے کی اجازت کبھی نہیں دے گی۔
پاکستان کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اسلم سلیم باجوہ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے لوگ نہیں چاہتے کہ شدت پسند دوبارہ ان کے علاقوں میں آئیں اور نہ ہی ریاست انھیں واپس آنے دے گی۔
اس سے پہلے بدھ کو صحافیوں کے وزیرستان کے دورے کے دوران بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے خلاف فوجی کارروائی ضرب عضب کی کمان کرنے والے میجر جنرل ظفر خان نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے 80 فیصد علاقے کو طالبان سے صاف کر دیا گیا ہے اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تتربتر کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ اس علاقے کو سو فیصد سیل کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن جو عناصر یہاں سے نکل گئے ہیں انھیں علاقے میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔
شمالی وزیرستان میں فوج کے کمانڈر نے کہا کہ وہ اس بات کا تعین نہیں کرسکتے کہ یہ آپریشن کتنے ہفتوں یا مہینوں میں مکمل کر لیا جائے گا اور اس سلسلے میں کوئی تاریخ دینا قبل از وقت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں احساس ہے کہ لاکھوں افراد اس آپریشن سے متاثر ہوئے ہیں لیکن پوری قوم کو یہ سب کچھ مل کر برداشت کرنا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ طالبان جاتے جاتے پوری علاقے میں بارودی سرنگیں لگا گئے ہیں جن سے فوج کو پیش قدمی اور نقل و حرکت میں دشواریوں کا سامنا ہے اور ان سرنگوں کو صاف کرنے میں بہت وقت صرف ہو رہا ہے۔
پاکستانی فوج نے 15 جون کو شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والے آپریشن ضربِ عضب میں سینکڑوں شدت پسندوں کو ہلاک کرنے اور ان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا عویٰ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







