فوجی آپریشن کے بعد شمالی وزیرستان کے صدر مقام کی تصاویر
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کا ایک فضائی منظر۔ شہر کی گلیاں اور سڑکیں سنسان دیکھی جا سکتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیران شاہ بازار میں ایک دکان کا شٹر، جس پر گولیوں کے نشانات یہاں ہونے والی لڑائی کی شدت کا پتہ دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیران شاہ بازار کا ایک منظر۔ بہت سی دکانوں کے آدھے شٹر بند تھے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دکاندار جلدی میں آدھی دکانیں کھلی چھوڑ کر چلےگئے۔
،تصویر کا کیپشنمیران شاہ کے اکثر علاقوں میں فوج کا کنٹرول ہے۔
،تصویر کا کیپشنتباہ شدہ دکان جہاں شیلفوں میں بسکٹ اور ملبے تلے دھنسے ڈیپ فریزر اسی حالت میں پڑے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنفوج کے مطابق میران شاہ شدت پسندوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بن گیا تھا۔ اس سینٹر میں مواصلات کے لیے استعمال ہونے والے آلات۔
،تصویر کا کیپشنمیران شاہ میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کی ایک فیکٹری میں جسمانی ورزش کا بندوبست بھی تھا۔
،تصویر کا کیپشنتباہ شدہ میران شاہ کا ایک اور منظر۔
،تصویر کا کیپشندھماکہ خیز مواد کی ایک مارکیٹ جہاں فوج کے مطابق یہ سامان تمام ملک میں برائے فروخت دستیاب تھا۔
،تصویر کا کیپشنایک مسجد کے تہہ خانے میں شدت پسندوں کا رہائشی کمرہ جہاں کپڑے لٹکے کے لٹکے رہ گئے۔
،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں کا پسندیدہ جوتا جوگر جو شاید انھیں اپنے ساتھ لے جانے کا موقع نہیں ملا۔ پیچھے باکسنگ بیگ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔