’ضرب عضب میں حقانی نیٹ ورک کو نشانہ نہیں بنایا گیا‘

    • مصنف, عنبر شمسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری کارروائی میں شدت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک کو ہدف نہیں بنایا گیا جس سے پاکستانی فوج کو امریکہ کی جانب سے دیے جانے والا کولیشن سپورٹ فنڈ خطرے میں پڑھ سکتا ہے۔

امریکی کانگریس پہلے ہی کولیشن سپورٹ فنڈ کی فراہمی کو حقانی نیٹ ورک کے خاتمے سے مشروط کر چکی ہے۔ اس فنڈ کی آئندہ قسط اس سال اکتوبر میں ملنی ہے جس کی مالیت تقریباً تین سو ملین ڈالر ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بعض سفارت کاروں کو یقین دلایا ہے کہ ’آخر میں سب ٹھیک ہو جائے گا، آپ اعتماد کریں۔‘

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان یہ کہہ چکی ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب میں کسی شدت پسند گروہ کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی اور تمام گروہوں کو شمالی وزیرستان سے ختم کیا جائے گا۔

سفارتی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ فضائی، انسانی اور صوتی انٹیلیجینس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب سے قبل حقانی نیٹ ورک کی قیادت کو شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے میں مدد فراہم کی گئی ہے جبکہ اس علاقے میں اس تنظیم کی سہولیات کو ختم نہیں کیا گیا۔

سفارتی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے کا ثبوت بھی مانگا ہے لیکن اگر یہ ثبوت پاکستان کو دے دیے گئے تو اس سے جاسوسی ذرائع کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے طالبان کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اگرچہ افغانستان میں ہونے والے شدت پسند حملوں میں سے صرف 15 فیصد حملوں میں حقانی نیٹ ورک کےملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں لیکن یہ تمام حملے بڑی نوعیت کےتھے جن سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔

خیال رہے کہ امریکہ پاکستان کو سالانہ تین بلین ڈالر فراہم کرتا ہے، جس میں ترقیاتی کاموں کے لیے رقوم تقریباً 800 ملین ڈالر ہے، ایک بلین ڈالر سکیورٹی کے لیے ہیں جبکہ ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر کولیشن سپورٹ فنڈ سے فراہم کیے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جلانی نے امریکی میڈیا میں کہا ہے کہ ایک طرف اگر پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تو دوسری طرف سرحد پار میں اس کے ردِ عمل سے نمٹنے کے لیے تعاون فراہم نہیں کیا گیا۔

اس حوالے سے سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کہ پاکستان سے کہا گیا تھا کہ آپریشن کے آغاز سے تین ہفتے قبل مطلع کیا جائے تاکہ افغانستان میں انتظامات کیے جا سکیں۔’ہمیں دو گھنٹوں کا نوٹس بھی نہیں دیا گیا۔‘