ضرب عضب: ’بویا اور دیگان کے اہم مراکز پر فوج کا قبضہ‘

گذشتہ ایک ماہ طالبان کے خلاف حکومت پاکستان کے عسکری آپریشن ضرب عضب میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ایک ماہ طالبان کے خلاف حکومت پاکستان کے عسکری آپریشن ضرب عضب میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں

پاکستانی فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری ضرب عضب آپریشن میں منصوبے کے مطابق شدت پسندوں کو ختم کیا جا رہا ہے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے گذشتہ رات چار شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے دوران سکیورٹی فورسز نے میران شاہ کے بعد عسکریت پسندوں کے اہم مراکز بویا اور دیگان سے بھی ان کا قبضہ ختم کر دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے ان گاؤں میں مقامی کے علاوہ غیر ملکی شدت پسند بھی تھے۔

ماشکی، ہرمز اور میر علی بازار میں گھر گھر تلاشی کا سلسلہ خصوصی دستوں کی مدد سے کیا جا رہا ہے۔

کور کمانڈر لیفٹیننٹ خالد ربانی نے شمالی وزیرستان کے علاقوں میر علی، بویا اور ڈیگان کا دورہ کیا اور آپریشن ضرب عضب میں مصروف دستوں سے ملاقات کی۔

اس آپریشن کے نتیجے میں لاکھو افراد بے گھر ہو گئے ہیں جن کے لیے فوج نے راشن جمع کرنے کا دعوی کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس آپریشن کے نتیجے میں لاکھو افراد بے گھر ہو گئے ہیں جن کے لیے فوج نے راشن جمع کرنے کا دعوی کیا ہے

آئی ایس پی آر کے مطابق میر علی اور گردو نواح میں چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کی جانب سے راکٹ اور مارٹر حملوں کے ساتھ ساتھ بھاری ہتھیاروں اور سنائپرز کے ذریعے حملے کیے جا رہے ہیں۔ گذشتہ روز ایک جھڑپ کے دوران چار شدت پسند مارے گئے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صرف گذشتہ شب ایک درجن دیسی ساخت کے بموں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ بم بنانے کی ایک فیکٹری دریافت کی گئی اور بھاری مقدار میں اسلحہ وبارود اور غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی گئيں ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ معلومات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس آپریشن کا مقصد شمالی وزیرستان کو طالبان سے پاک کرنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس آپریشن کا مقصد شمالی وزیرستان کو طالبان سے پاک کرنا ہے

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بنوں، ڈی آئی خان اور ٹانک میں بے گھر ہونے والے افراد میں ایک لاکھ تینتیس ہزار راشن کے پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں دوسری جانب ملک بھر میں پاکستان فوج کی جانب سے قائم کیے جانے والے 59 کیمپوں میں 1639 ٹن راشن جمع کیے جا چکے ہیں۔