’وزیرِاعظم کے استعفے، پارلیمان کی تحلیل کے مطالبات غیر آئینی‘

،تصویر کا ذریعہAP
لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے آزادی مارچ اور پی اے ٹی کے انقلاب مارچ کے بارے میں اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں دونوں جماعتوں کے مطالبات کو غیرآئینی قرار دیا گیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے تفیصلی فیصلے کے مطابق دونوں جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کے استعفے، پارلیمان کی تحلیل، الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو اور ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی تشکیل اور نئے انتخابات کے مطالبات غیر آئینی ہیں۔
یہ تفصیلی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان دونوں جماعتوں کے رہنما اور کارکن لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور عمران خان نے روانگی سے قبل کارکنوں سے خطاب میں کہا تھا کہ آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا اور آزادی صرف کوشش کرنے سے ملتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج کے دن ہم پاکستان کو فرعونوں سےآزاد کروائیں گے۔‘
عدالت نےگذشتہ روز بدھ کو اپنے مختصر فیصلے میں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے کہا تھا کہ وہ کسی بھی غیر آئینی طریقے سے لانگ مارچ نہیں کر سکتیں اور دھرنا نہیں دے سکتیں۔
تاہم مختصر فیصلے میں عدالت نے وضاحت نہیں کی تھی کہ غیر آئینی اقدامات کیا ہیں۔
جمعرات کو جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے میں دونوں جماعتوں کے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان جماعتوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں اس وقت تک احتجاجی دھرنا دیں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد خالد محمود خان کی سربراہی میں فل بینچ نے ملک میں غیریقینی صورتحال اور یومِ آزادی کے تقدس کے تناظر میں ان دونوں جماعتوں کو کسی بھی غیر آئینی طریقے سے انقلاب یا آزادی مارچ شروع کرنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے سے روک دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین اور ان کے رہنماؤں کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی پر انھیں قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے بدھ کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت کو آئینی احتجاج پر اعتراض نہیں اور آزادی مارچ اور انقلاب مارچ سے متعلق عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’ہم نے دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا اور وزیراعظم پاکستان کا قوم سے خطاب بھی دیکھا، اس کے علاوہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا جاوید چوہدری کے ساتھ چار جولائی کو نشر ہونے والا انٹرویو بھی دیکھا۔ بادی النظر میں اس نے ہمیں باور کرایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور چیئرمین پی اے ٹی کے مطالبات ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہیں۔‘
عدالت نے کہا ہے کہ وہ اس درخواست کی باقاعدگی سے سماعت بھی کرے گی۔







