تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کے نامہ نگار نے لاہور سے بتایا کہ تحریکِ انصاف کی ریلی میں چند نوجوان ایسے ملے جنہوں نے کفن پہن رکھے تھے۔
،تصویر کا کیپشنجمعرات کی صبح شروع ہونے والا پاکستان تحریکِ انصاف کا آزادی مارچ دن ڈھلنے تک لاہور کی حدود سے باہر نہیں نکل پایا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریکِ انصاف کا آزادی مارچ سفر کے آغاز کے 11 گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد اب بھی لاہور شہر کی حدود سے باہر نہیں نکلا ہے جبکہ عوامی تحریک کا انقلاب مارچ شہر کے مضافاتی علاقوں سے گزر رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو پورے خاندان یعنی میاں بیوی بچے بھائی بہنوں یا والدین کے ہمراہ جلوس میں شریک ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنمال روڈ پر پر پاکستان کے جشن آزادی پر رش تو ہمیشہ ہوتا ہے لیکن اس بار پورے دن مال پر صرف اور صرف تحریک انصاف کے کارکنوں کا ہی قبضہ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے لانگ مارچ جمعرات کی صبح لاہور سے شروع ہوئے اور ان کی منزل دارالحکومت اسلام آباد ہے۔
،تصویر کا کیپشنعمران خان پی ٹی آئی کے ’آزادی مارچ‘ کی قیادت کر رہے ہیں اور ان کے ہمراہ جماعت کے اہم رہنما بھی موجود ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآزادی مارچ کا آغاز زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ سے ہوا اور اس موقع پر وہاں کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
،تصویر کا کیپشنتحریکِ انصاف کے آزادی مارچ میں ملک کے مختلف حصوں سے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکارکنوں میں ہر عمر کے افراد کی بڑی تعداد دکھائی دی۔
،تصویر کا کیپشنعمران خان کے آزادی مارچ کے کچھ ہی دیر بعد طاہر القادری کا انقلاب مارچ بھی روانہ ہوا۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے قافلے میں بھی لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کی خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد نے لاہور شہر میں ابتدائی فاصلہ پیدل طے کیا۔
،تصویر کا کیپشنانقلاب مارچ میں شریک بہت سے افراد ڈنڈوں سے مسلح نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے کچھ کارکن گیس ماسک بھی گلے میں لٹکائے دکھائی دیے۔