چین سے پاکستان کے کچھووں کی واپسی

چینی حکام نے ایک چینی شہری کو گرفتار کیا جس کی نشاندہی پر دو پاکستانی شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا

،تصویر کا ذریعہJim Abernethy

،تصویر کا کیپشنچینی حکام نے ایک چینی شہری کو گرفتار کیا جس کی نشاندہی پر دو پاکستانی شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی شہریوں کو کسی ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہو جانے کے بعد اپنے وطن کے حوالے کرنے کی تو کئی مثالیں موجود ہیں لیکن پہلی بار یہاں کے کچھووں کو پڑوسی ملک سے پاکستان کے حوالے کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

چین کی حکومت دو سو کے قریب میٹھے پانی کے کچھووں کو پاکستان کے حوالے کرے گی۔ یہ کچھوے صوبہ سندھ سے سمگل کیے گئے تھے۔

محکمہ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر جاوید مہر نے بی بی سی کو بتایا کہ رواں سال جولائی میں چین کے سرحدی شہر کاشغر میں ایک ڈرائیور نے اپنے چینی کسٹم حکام کو بتایا کہ اس کی گاڑی میں کوئی مشکوک سامان موجود ہے جس کی تلاشی کے دوران میٹھے پانی کے دوسو کے قریب کچھوے زندہ حالات میں برآمد کیے گئے۔

اس برآمدگی کے بعد چینی حکام نے ایک چینی شہری کو گرفتار کیا جس کی نشاندہی پر دو پاکستانی شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا، جن میں سے ایک کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ دوسرج ہنزہ کا رہائشی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق یہ کچھوے ماحول کے بقا کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این کی معدوم ہونے والی حیات کی سرخ فہرست میں شامل ہیں اور چین میں بھی یہ پہلی کیٹگری میں موجود ہیں۔

جنگلی اور آبی حیات بین الاقوامی کنونشن (CITES) کے مطابق سمگلنگ کے دوران ضبط کی گئی جنگلی اور آبی حیات کو اپنے ہی علاقوں میں چھوڑنا لازمی ہے جس کے لیے چین کی حکومت نے پاکستان کو آگاہ کیا۔

فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کئی روز یہ معاملہ زیر التوا، رہا بالآخر سندھ حکومت نے تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے اور اب 18 سے 20 اگست کے دوران یہ کچھوے خنجراب کے مقام پر سندھ حکومت کے حوالے کیے جائیں گے۔

محکمہ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر جاوید مہر کے مطابق عام طور پر اس کچھوے کا گوشت بیرون ملک سمگل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ پہلا واقعہ ہے جس میں زندہ کچھوے سمگل کیے گئے ہیں۔ بقول ان کے بندرگاہوں اور ایئرپورٹ پر آگاہی کی مہم کی وجہ سے اب وہاں سے سمگلنگ دشوار ہو چکی ہے اس لیے اب زمینی راستوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات یا کسی غیر سرکاری ادارے کے پاس پاکستان میں میٹھے پانی کے کچھووں کی درست تعداد تو موجود نہیں تاہم جاوید مہر کا کہنا ہے کہ انڈس ریور سسٹم میں کسی زمانے میں ان کچھووں کی بہتات ہوا کرتی تھی۔ لیکن ان کے بے دریغ شکار، دریا میں شہروں کے نکاسی آْب کے نظام اور کہیں کہیں پانی کی سطح کم ہو جانے کی وجہ سے ان کی تعداد میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔