’عمران خان ایک کیفیت ہے‘

کیا آئندہ انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عمران خان کے پاس کوئی جادوئی فامولا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکیا آئندہ انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عمران خان کے پاس کوئی جادوئی فامولا ہے؟
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں صحافیوں پر بھی ’ڈھیلے دن‘ آتے ہیں، جب کوئی بھی خبر ہاتھ نہیں آتی، اخبار بھرنا دوبھر ہو جاتا ہے۔

یقیناً بھکاریوں کے بھی اسی طرح برے دن کئی آتے ہوں گے جب دھیلے کی کمائی نہیں ہوتی ہوگی۔ پولیس والے بھی شاید کسی روز تھانے میں مکھیاں مار مار کر ان کی نسل کشی میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتے ہوں گے۔

لیکن ایک گروہ ایسا ہے جس کے پاس اپنے آپ کو ہمیشہ مصروف رکھنے بلکہ زندہ رکھنے کی بڑی آسانی ہے۔ مراد سیاست دانوں سے ہے۔

اس برادری کے پاس مسائل کے حل تو کم ہیں، بہتر قانون سازی کے نسخے ندارد ہیں، قوم کو درست سمت میں لے جانے کی صلاحیت ناپید ہے، لیکن کسی ایک نان ایشو کو ایشو بنانے میں شاید سیاسی رہنماؤں نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ شاباش بھئی شاہ ہی باش۔

اب تحریک انصاف کے عمران خان کو ہی لے لیں۔ عام انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ اگر انتخابی ٹرائیبونل حل نہیں کر سکے، عدالتیں بے اثر ہیں اور انتخابی کمیشن بے بس تو ایسے میں کیا عوام کو سڑکوں پر لا کر یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے گا؟

کیا آئندہ انتخابات کے سلسلے میں تحریک انصاف نے کوئی ہوم ورک کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکیا آئندہ انتخابات کے سلسلے میں تحریک انصاف نے کوئی ہوم ورک کیا ہے؟

فرض کریں کہ وزیر اعظم نواز شریف کی کسی وجہ سے اپنے ذاتی یا جماعتی فائدے کے بارے میں سوچنا بند کر دیتے ہیں اور آج مستعفی ہو کر نئے انتخابات کا اعلان کرتے ہیں تو کیا ضمانت ہے کہ تازہ انتخابات ’پاک، خالص اور بےداغ‘ ہوں گے؟

کیا اس کے لیے تحریک انصاف نے کوئی ہوم ورک کیا ہے؟ کیا اس کے ہاتھ وہ جادوئی فارمولا ہاتھ لگ گیا ہے کہ جس سے تازہ انتخابات صحت مند ہوں گے؟

تو بہتر نہیں کہ یوم آزادی کے دن لوگوں کی چھٹی خراب کرنے کے بجائے پہلے اپنا ہوم ورک کر لیں۔

پارلیمان کی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی اس سمت میں اچھی پیش رفت تھی۔ اس میں بیٹھ کر کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے پہلے انتخابی نظام میں خامیاں اور کمزوریوں کی تشخیص کر کے ان کے حل کی قانون سازی کر کے پھر تازہ دم انتخابات کی بات کریں تو کیا زیادہ اچھا نہیں ہے؟

پٹھانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کیفیت کا نام ہے تو عمران خان بھی شاید اسی نوعیت کی کوئی چیز ہے۔ بس اپنے اوپر آج کل انھوں نے انتخابی دھاندلی کی کیفیت وارد کر کے عجیب سیاسی ماحول پیدا کر دیا ہے۔

صاف انتخابات کی بات وہ بھی کوئی زیادہ غلط نہیں کر رہے لیکن اس کے حصول کے لیے جو طریقہ اختیار کرنا چاہ رہے ہیں وہ یقیناً درست نہیں۔ معلوم نہیں کہ نواز شریف اور زرداری انھیں یہ یقین دہانی کیوں نہیں کروا رہے کہ خان صاحب تسلی رکھیں ’اگلی واری تواڈی۔‘