’نواز شریف مستعفی ہوکر دوبارہ انتخابات کروائیں‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیرِاعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے اور ملک میں دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ سنہ 2013 کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی میں اس وقت کی نگراں حکومت بھی ملوث تھی۔
واضح رہے کہ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ اُن کی حکومت کو کسی احتجاج یا لانگ مارچ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ حزبِ اختلاف کی بات سننے کو تیار ہیں اور اپوزیشن کے ساتھ بات چیت لانگ مارچ سے پہلے ہو یا بعد میں، ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’14 اگست کو اسلام آباد میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہوگا جس میں ملک میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا جائے گا۔‘
عمران خان نے کہا کہ جب تک نئے الیکشن کمیشن کے تحت دوبارہ انتخابات کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔‘
عمران خان نے کہا کہ وہ 14 مہینے سے پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن، الیکشن ٹریبیونلز اور سپریم کورٹ سے درخواست کر رہے تھے کہ صرف چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروائی جائے تاہم ایسا نہیں ہو سکا۔
عمران خان نے کہا کہ صرف ان کی جماعت نہیں دیگر جماعتیں بھی استعفے دینے کو تیار ہیں، تاہم انھوں نے اس کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحریکِ انصاف طاہرالقادری کے ساتھ مارچ میں شامل ہوگی یا نہیں، اس سوال کے جواب میں عمران خان نے مبہم انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے آگے چل کر راستے مل جائیں: ’ان کا انقلابی مارچ ہے جبکہ ہمارا آزادی مارچ ہے۔‘
تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے اس تاثر کو رد کیا کہ وہ فوج کے کہنے پر باہر نکلنے کی بات کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
’ہردورازے پر دستک دی، آخر میں ہم نے کہا کہ اگر انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر جائیں گے، اب اسلام آباد کی سڑکوں پر میں دعویٰ کرتا ہوں کہ آپ سب سے بڑا احتجاج دیکھیں گے، جو دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ 11 اگست کو بتائیں گے کہ کون کون انتخابات میں دھاندلی میں ملوث تھے: ’الیکشن کمیشن، عدلیہ اور نگراں حکومت دھاندلی میں مسلم لیگ ن کے ساتھ تھی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ 17 ہزار پولنگ سٹیشنوں میں دھاندلی ہوئی اور 90 حلقوں میں انتخابی فہرستیں جاری ہونے کے بعد اضافی ووٹ درج کیے گئے جن میں میانوالی میں سب سے زیادہ 30 ہزار ووٹ ڈالے گئے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی صورت میں ایک مصروف دن گزارا۔
وزیراعظم ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ میاں نواز شریف سے اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے ملاقاتیں کیں۔
سیاسی رہنماؤں سے ہونے والی ان ملاقاتوں کا ایجنڈا ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے 14 اگست کو پاکستان کی یومِ آزادی کے موقع پر اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسی طرح پاکستان عوامی تحریکِ کے سربراہ طاہرالقادری نے بھی ’انقلاب مارچ‘ کا اعلان کیا ہے تاہم انھوں نے اس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔







