’سرکاری عید نہیں‘ لیکن عمران خان کی بنوں میں عید

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے خیبر پختونخوا میں ایک مرتبہ پھر عید کا چاند متنازع رہا ہے۔ آج پیر کو پشاور سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں کوئی عید منا رہا ہے تو کہیں روزہ ہے۔
صوبائی حکومت نے آج صوبے میں عید نہ منانے کا اعلان کیا ہے لیکن حکمران جماعت کے سربراہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے آج شمالی وزیرستان کے متاثرہ افراد کے ساتھ عید منائی ہے۔
پشاور میں غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے رات دیر سے شوال کا چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہونے کے بعد عید کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بنوں کرک باجوڑ ایجنسی اور دیگر علاقوں سے چاند نظر آنے کی 48 شہادتیں موصول ہوئیں جس کے بعد انھوں نے عید کا اعلان کیا ۔
پشاور کی مسجد قاسم علی خان میں غیر سرکاری رویت ہلاک کمیٹی کا اجلاس رات دیر تک جاری رہا۔ صوبائی حکومت نے اس اعلان سے لا تعلقی کا اظہار کیا اور صوبے میں عید نہ منانے کا اعلان کیا ہے۔
ان دونوں فیصلوں کے بعد پشاور میں لوگ بھی تقسیم نظر آئے۔ پشاور سمیت مختلف اضلاع میں کہیں عید تو کہیں روزہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں بیشتر جنوبی اضلاع میں عید ہے لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں روزہ ہے۔ اسی طرح ہزارہ ڈویژن میں بھی آج روزہ ہے جبکہ بنوں، چارسدہ، مردان، صوابی ، لکی مروت سمیت بیشتر علاقوں میں عید ہے۔
یہ تقسیم صرف شہروں کی حد تک نہیں ہے بلکہ ہر شہر اور ہر گلی کوچے کی سطح پر لوگ تقسیم ہیں۔ پشاور میں ایک ہی گلی میں رہنے والے لوگوں میں کسی کا روزہ ہے تو کوئی عید کی خوشیاں منا رہا ہے۔
صوبائی حکومت نے تو عید نہ منانے کا اعلان کیا ہے لیکن حکمران جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بنوں میں متاثرین کے ساتھ آج عید منائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ بنوں تاخیر سے پہنچے اس لیے وہ عید کی نماز بنوں میں نہیں پڑھ سکے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی ان کے ہمراہ تھے۔
بنوں میں جماعت اسلامی کے صوبائی سربراہ پروفیسر ابراہیم نے بھی آئی ڈی پیز کے ساتھ عید منائی ہے جبکہ پاکستان مسلم لگ کے وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی بنوں پہنچیں گے ۔ بنوں میں خراب موسم کی وجہ سے قائدین تاخیر سے پہنچ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ خیبر پختونخوا، پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغان پناہ گزین جو ملک کے دیگر علاقوں میں مقیم ہیں وہ وہاں آج ہی عید منا رہے ہیں۔ میانوالی کے افغان کیمپ میں بھی آج عید ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں یہ اختلاف صرف ماہ رمضان، شوال اور بقرعید کے مہینے کے لیے ہی ہوتا ہے باقی نو مہینوں میں یہ اِختلاف کہیں نظر نہیں آتا۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے شرعی حوالے سے جائز شہادتیں موصول ہوتی ہیں تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی ان شہادتوں کو تسلیم کیوں نہیں کرتی؟
پاکستان کے قبائلی علاقوں، صوبہ خبیر پختیون خوا کے بعض شہروں کے علاوہ، مشرقِ وسطیٰ مشرقِ بعید اور دیگر مغربی ممالک میں آباد مسلمان بھی پیر کو عیدالفطر منا رہے ہیں۔







