غزہ کی ناکہ بندی فوری طور پر بند کی جائے: پاکستان

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے جمعرات غزہ کی ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے۔
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے ہفتہ وارانہ بریفنگ میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو وہاں سے اپنی افواج نکال لینی چاہییں۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔
انھوں نے غزہ میں اسرائیلی بمباری اور زمینی فوج کی کارروائی کو غیرانسانی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور بےگناہ شہریوں خاص کر خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا کہ فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی پاکستان نے ہر فورم پر کھل کر مخالفت کی ہے اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسرائیلی حملوں پر واضع موقف اختیار کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور پاکستانی ہر محاذ پر فلسطینی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
عالمی سطح پر رائے عامہ کو ہموار کرنے کے بارے میں سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان نے اسلامی ممالک کی تنظیم (اوآئی سی) اور دیگر ہم خیال ممالک سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے دباؤ ڈالیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کو یقین ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیاں تنازعات کا حل جنگ اور خون خرابے کی بجائے مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان اور بھارت مذاکرات

،تصویر کا ذریعہepa
پاک بھارت سیکریٹری خارجہ کی ملاقات کے بارے میں اعزاز چوہدری نے کہا کہ یہ ملاقات 25 اگست کو اسلام آباد میں ہوگی جس میں کشمیر سمیت تمام متعلقہ امور زیر غور آئیں گے۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز بھارتی سیکریٹری خارجہ سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں لائن آف کنٹرول (ایل اوسی) اور ورکنگ باونڈری پر بات ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ پر واضح کر دیا گیا ہے کہ ورکنگ باونڈری پر فائرنگ ہمشہ سرحد پار سے ہوتی ہے۔
اعزاز احمد نے دونوں ممالک کی سرحد پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے گروپ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے لیے لازمی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت فوجی گروپ سے مکمل تعاون کرے۔
انھوں نے بھارتی آرمی جنرل کی جانب سے گذشتہ روز کے اس دعوے کومسترد کر دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کی سرحدی حدود میں دراندازی ہو رہی ہے۔
سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے کبھی ازخود فائرنگ نہیں کی ہے بلکہ ہمیشہ بھارتی فوجی کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ہونے کے بعد صرف اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی ہے۔
محمود اچکزئی کا افغانستان
افغانستان کےساتھ سرحد پر کشیدہ صورتحال کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ بعض ایسی اطلاعات تھیں کہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروپ ایک بار افغانستان میں منظم ہو کر پاکستانی پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔
جس پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خصوصی نمائندے محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ایک وفد نے کابل کا دورہ کیا جہاں پاکستانی وفد نے نہ صرف افغان حکومت سے اس طرح حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی درخواست کی بلکہ کہا ہے کہ دونوں ممالک کو مشترکہ اور جامع حکمت عملی کے تحت ان دہشت گردوں کے خلاف کام کرنا چاہیے تاکہ پورے خطے کو دہشت گردی سے پاک کیا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ایک پرامن افغانستان پاکستان اور خطے کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان حقانی گروپ سمیت کسی بھی دہشت گرد کو برداشت نہیں کرے گا۔
اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں اس وقت تک فوجی آپریشن جاری رہے گا جب تک وہاں سے تمام دہشت گردوں کا صفایا نہیں ہو جاتا۔







