ملتان میں تین سالہ بچی کا ریپ کے بعد قتل

پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں
    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کے علاقے ڈیفنس ویو میں پولیس حکام کے مطابق ایک تین سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔

بچی کی لاش محلے کے خالی مکان کے غسلخانے سے ملی۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور اس نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ تین سالہ بچی دن 12 بجے کے قریب کھیلتی ہوئی گھر سے نکلی اور پھر واپس نہیں آئی۔ گھر والوں نے تلاش کرنا شروع کیا تو برابر والے خالی مکان کے غسل خانے سے اس کی لاش ملی۔

مکان ویسے تو خالی تھا لیکن یہاں ایک ملازم مستقل رہائش پذیر تھا۔ پولیس نے ملازم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی تو اس نے اعتراف جرم کر لیا۔

اے ایس آئی تھانہ مظفر آباد محمد ذکریا کے مطابق دوران تفتیش ملازم سمیع اللہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے بچی سے زیادتی کی اور اس کے دوران وہ ہلاک ہوگئی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ ساتھ والی کوٹھی میں ملازم تھا جو بچی کو ورغلا کر خالی مکان میں لے گیا۔ جہاں اس سے زیادتی کی کوشش کی۔ اس دوران بچی مر گئی۔ بچی کا میڈیکل تو ابھی نہیں ہوا تاہم یہ شخص اعتراف کر رہا ہے کہ اس نے تین سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کی۔‘

پولیس نے بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ہپستال بھجوا دی ہے جبکہ واقعے کی ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔

لڑکی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ اس کا خاندان ویسے تو ڈیرہ غازی خان کا مستقل رہائشی ہے تاہم کئی ماہ سے ملتان کے علاقے ڈیفنس ویو میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا جبکہ بچی کے والد بیرون ملک ہیں۔

کمسن بچی سے زیادتی کا یہ واقعہ کوئی نیا نہیں۔ آئے دن اس طرح کے واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔

چند ماہ پہلے لاہور کے علاقے مغلپورہ کی رہائشی ایک پانچ سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے گنگا رام ہسپتال کے باہر پھینک دیا گیا تھا۔

لیکن عموعی تاثر یہ ہے کہ میڈیا کی نظر سے اوجھل ہونے کے بعد اس طرح کی کیسز میں پولیس کی دلچسپی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب کے نوٹس لینے کے باوجود اس واقعے میں ملوث افراد کو بھی ابھی تک کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا۔