’پاکستان میں ریپ کے مقدمات میں سزاؤں کی شرح صفر‘

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کو وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں ریپ کے مقدمات میں سزائیں دیے جانے کی شرح صفر رہی ہے۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سیدہ صغریٰ امام نے ایوان کو بتایا کہ ریپ کے مقدمات میں سزا نہ ہونے کی وجہ تعزیرات پاکستان، کرمنل پروسیجر کورٹ اور قانون شہادت میں سقم ہیں۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس کیمٹی کے چیرمین محمد کاظم خان کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں اینٹی ریپ لا (کریمنل لا کا ترمیمی بل) سنہ دو ہزار چودہ پر بحث ہوئی۔
کمیٹی نے وزارت قانون ، وزارتِ داخلہ اور قانون کے صوبائی وزراء کو ہدایت کی تھی کہ وہ تمام ملک میں ہونے والے ریپ کے مقدمات اور ان میں دی جانے والی سزاؤں کا ریکارڈ ایوان میں پیش کریں۔
سینیٹر صغریٰ امام نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ملک میں ریپ کیسز کے کسی بھی مجرم کو سزا نہیں دی گئی اکا دکا گینگ ریپ کے کیسز میں سزائیں ہوئیں لیکن وہ دہشتگردی کی دفعات کے تحت دی گئیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جن قوانین میں ترامیم کو تجویز کیا گیا ہے ان میں کرمنل پروسیجر، پاکستان پینل کوڈ اور قانون شہادت شامل ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان بار کونسل، پاکستان ہائی کورٹ بار اور دوسری وکلاء کی تنظیموں سے بھی ملاقات کرے گی اور ریپ کے قانون میں ترمیم کرنے کے لیے ان کی رائے لی جائے گی۔
سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس طرح کے مقدمات میں الزام لگانا بہت آسان ہوتا ہے لیکن ان کو ثابت کرنا بہت مشکل۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمیٹی نے سرکاری اور نجی دفاتر میں خواتین کو جنسی طور پر ہراس کرنے کے بارے میں قانون کے مسودے پر بھی غور کیا۔ یہ مسودہ قانون پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پیش کیا ہے۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے بھی اس سلسلے میں مشاورت کی جانی چاہیے کیونکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بھی مرد حضرات کی طرف سے خواتین کو جنسی طور پر ہراس کرنے کے واقعات ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کو بھی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے اور موجود قانون کا طالبہ اور اساتذہ پر اطلاق نہیں ہوتا۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر کاظم نے ایک نیامفصل قانون بنایا جانا چاہیے تاکہ معاشرے کے تمام شعبوں اور طبقعوں کا احاطہ ہو سکے۔







