’جج نہ ملے تو پھر الیکشن کمشنر کہاں سے لائیں؟‘

قائد حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ تجاویز بڑی سوچ سمجھ کر دی گئی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنقائد حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ تجاویز بڑی سوچ سمجھ کر دی گئی ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے جج ہونے کی شرط آپشنز کو بہت محدود کر دیتی ہے اور اگر کوئی موزوں جج نہ ملے تو پھر چیف الیکشن کمشنر کہاں سے لائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس ضمن میں آپشنز بہت محدود ہیں، اس لیے حکومت چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کی تعیناتی کے لیے سینیئر بیوروکریٹس یا سینئیر وکلا کی تعیناتی سے متعلق بھی قانون سازی کرے۔

منگل کے روز انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو بااختیار ہونا چاہیے جبکہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر ایک رکن کی حثیت سے کام کر رہے ہیں۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرے اور اس کے بعد ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کی مدت چار سال تک کر دی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی مدت کم ہونے سے جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور جب ملک میں جمہوریت مستحکم ہو جائے تو حکومت کی مدت دوبارہ پانچ سال کر دی جائے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ تجاویز بڑی سوچ سمجھ کر دی گئی ہیں اور اُنھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان تجاویز پر انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں غور کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے ملک میں آئندہ انتخابات کو مزید شفاف بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات سے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا تھا جس کے بعد ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔

اس کمیٹی سے متعلق ایوان بالا یعنی سینیٹ کے ارکان نے اعتراض کیا ہے کہ اس کمیٹی کے قیام میں آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اُنھوں نے کہا کہ ارکان کی تعداد کی شرح قومی اسمبلی سے دو تہائی اور سینیٹ سے ایک تہائی ہونی چاہیے۔

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کے ارکان کا اعلان کر دیا ہے جبکہ نام تجویز کرنے کا اختیار سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ہونا چاہیے۔

سپیکر قومی اسمبلی کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔