الیکشن ٹریبیونلز کی مدت میں توسیع کرنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ملک کے چاروں صوبوں میں عام انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی اور دیگر انتخابی عذرداریوں سے متعلق قائم کیے گئے الیکشن ٹریبیونلز کی مدت میں تین سے لے کر چھ ماہ کی توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن ٹریبیونلز کی ایک سال کی مدت 30 جون کو ختم ہو رہی ہے۔ اس بات کا فیصلہ وزارتِ خزانہ کی طرف سے الیکشن کمیشن کی درخواست پر فنڈز جاری کرنے کے بعد کیا گیا۔
الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل شیر افگن کے مطابق اس ضمن میں سمری قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دی گئی ہے جس کی منظوری اور اس بارے میں نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ صوبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں الیکشن ٹریبیونلز کی مدت میں چھ ماہ جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تین ماہ اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شیر افگن کے مطابق الیکشن ٹریبیونلز کی مدت میں توسیع کے بعد وہاں پر کام کرنے والے سٹاف کی مدت ملازمت میں بھی توسیع ہوگی۔
یاد رہے کہ اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں 14 ٹریبیونلز کام کر ہے تھے جن میں سے صوبہ پنجاب میں پانچ جبکہ باقی تین صوبوں میں تین تین ٹربیونلز کام کر ہے تھے۔
وزارتِ خزانہ نے جو اضافی گرانٹ جاری کی ہے اُس کے مطابق ملک بھر میں 12 الیکشن ٹریبیونلز کام کریں گے جن میں سے صوبہ پنجاب میں پانچ، صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں تین تین جبکہ بلوچستان میں ایک الیکشن ٹریبیونل کام کرے گا جبکہ دو الیکشن ٹریبیونلز کے سربراہ مستعفی ہو چکے ہیں جن میں سے ایک کا تعلق صوبہ پنجاب سے جبکہ دوسرے کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔
ملک کے 14 الیکشن ٹریبیونلز کے پاس دھاندلی اور انتخابی نتائج سے متعلق دیگر 400 سے زائد شکایات تھیں جن میں سے 300 کے قریب مقدمات کو نمٹا دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان الیکشن ٹریبیونلز میں سب سے زیادہ درخواستیں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدواروں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔
اُدھر الیکشن ٹریبیونل نے قومی اسمبلی کے حقلہ این اے 124 سے شکست کھانے والے پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار ولید اقبال کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹریبیونل کا کہنا ہے کہ درخواست گُزار گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام ثابت نہیں کر سکے۔
قومی اسمبلی کے اس حلقے سے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے اُمیدوار شیخ راحیل اصغر کامیاب ہوئے تھے۔







