انتخابی مقدمات پر فیصلے تاخیر کا شکار

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی فیروزپور روڈ پر واقع ضلعی کچہری میں وکلا اور سائلوں کی آمد جاری ہے۔
ان سائلوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو اس سے پہلے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں مددگار ہوتا تھا اور اب خود یہاں کے چکر لگا رہا ہے۔
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے چوہدری منظور احمد، قصور میں قومی اسمبلی کے حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے۔
چوہدری منظور نے تمام پولنگ سٹیشنوں کے نتائج، درج ووٹ اور پڑنے والے ووٹوں کا کمپیوٹر کے سافٹ ویئر کی مدد سے تجزیہ کر کے دھاندلی کے مبینہ ثبوت اکٹھے کیے ہیں۔ وہ اس دھاندلی کا ذمے دار ریٹرننگ افسر کو قرار دیتے ہیں۔
’ہمارا تو ریکارڈ ہی ضائع کیا گیا ہے، 177 پولنگ سٹیشنوں کا فارم 17 موجود نہیں ہے، 178 سٹیشنوں میں فارم 15 نہیں ہے، کاؤنٹر فائل اور انتخابی فہرستیں لاپتہ ہیں یہ سب ریکارڈ ضائع کیا گیا۔‘
چوہدری منظور کے مطابق جب کوئی بندہ سرکاری ریکارڈ کو ضائع کرتا ہے تو اس پر فوجداری مقدمہ ہونا چاہیے اس کے لیے وہ تھانوں اور کچہریوں کا چکر لگا رہے ہیں۔وہ معاملے کی پیروی کریں گے چھوڑیں گے نہیں۔
ماضی میں ہائی کورٹ کے حاضر ججز انتخابی تنازعات کی درخواستیں نمٹاتے تھے لیکن مقدمات کی بہتات اور تاخیر کی وجہ سے یہ ذمے داری ریٹائر ججوں کو سونپ دی گئی لیکن اس کے باوجود کوئی فرق نہیں پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتخابی اصلاحات پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’پلڈاٹ‘ کے صدر احمد بلال کا کہنا ہے کہ چار ماہ کے اندر فیصلہ کرنا تھا اس بار ان کے پاس بروقت فیصلہ نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی، انھیں روزانہ سماعت کر کے فیصلہ سنانا تھا، اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور مصروفیت بھی نہیں تھی۔ بقول ان کے لوگوں میں اس مرتبہ جو بے چینی ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ ان اقدامات کے باوجود کیوں فیصلہ نہیں ہو رہا۔
’انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق نہیں ہو رہی ہے، الیکشن ٹربیونل بروقت اپنا کام مکمل نہیں کر رہے، ان عوامل سے لوگوں کا انتخابی عمل پر اعتماد کم ہوتا ہے۔‘
پاکستان میں مبینہ انتخابی دھندلی کے خلاف 410 انتخابی آئینی درخواستیں دائر کی گئیں، جن میں سے صرف نصف پر فیصلے ہو سکے ہیں۔ اس قانونی جنگ کے مراحل طے نہ ہونے کی وجہ سے اب سیاسی جماعتیں سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔
عام انتخابات میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے مقناطیسی سیاہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا جس کے باعث اب جعلی ووٹ ناقابل تصدیق ہیں۔
پاکستان تحریک سمیت کئی جماعتیں یہ شکایت کرتی ہیں کہ یہ جدت ہی دھاندلی کا سبب بنی ہے۔ عمران خان پنجاب کے چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق اور نئے انتخابی کمیشن کی تشکیل چاہتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری جنرل کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔
’جب انتخابی پٹیشن دائر کی جائے تو ریٹرننگ افسر کو فریق اول بنایا جائے جب ایسا ہونے لگے گا تو وہ ریٹرننگ افسر جو پولنگ سٹیشنوں کا بے تاج بادشاہ ہے اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو وہ ذاتی طور پر چکر کاٹتا رہے گا۔ اسی طرح اگر جس حلقے میں انتخابات کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو ریٹرننگ افسر کو بھی برطرف کیا جائے۔‘
انتخابات میں اصلاحات بھی پارلیمان کے ذریعے ممکن ہیں، سڑکوں پر احتجاج کی وجہ سے یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ احتجاج انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ہے یا ان کا اصل مقصد محض اپنی سیاسی ساکھ بنائے رکھنا ہے؟
انتخابات کو ایک سال مکمل ہونے پر قانونی طور پر اب انتخابی مواد یعنی ووٹوں اور ووٹر لسٹوں کا معائنہ نہیں ہو سکے گی، سوائے ان حلقوں کے جہاں ان کی جانچ پڑتال کی درخواستیں دائر کی گئیں تھیں۔







