خواجہ امتیار، لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس

عمر عطا بندیال سپریم کورٹ کے جج ہوں گے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنعمر عطا بندیال سپریم کورٹ کے جج ہوں گے

اعلی عدلیہ میں ججز کی تقرری کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو سپریم کورٹ کا جج بنانے جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے سنئیر جج خواجہ امتیاز کو لاہور ہائی کورٹ کا نیا چیف جسٹس بنانے کی سفارش کی ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے سنئیر وکیل اطہر من اللہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایڈشنل جج بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

پاکستان کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں بدھ کو ہونے والے اجلاس میں ان معاملات کا جائزہ لیا گیا اور کمیشن کے ارکان نے اتفاق رائے سے ان سفارشات کی منطوری دی ہے۔

کمیشن کی ان سفارشات کو اعلی عدالتوں میں ججز کی تقرری کے لیے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کو بجھوا دیا گیا ہے۔

کمیشن کے اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ایڈشنل ججز کی تعیناتی کے لیے پانچ ناموں پر غور کیا گیا ان میں بلوچستان سے شیر شاہ کاسی،خالد کامدانی، اسلام آباد سے انیس جیلانی اور میاں عبدالروف جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا سے اطہر من اللہ شامل ہیں۔

کمیشن کے اجلاس میں شریک پاکستان بار کونسل کے رکن یاسین آزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ اطہر من اللہ کے نام پر اعتراض اٹھایا کہ خفیہ اداروں کی بھی رپورٹ یہ رہی ہے کہ وہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان رہے ہیں تو ایسی صورت میں اُن کے نام پر غور نہیں کرنا چاہیے تاہم کمیشن کی اکثریت نے اس اعتراض کو مسترد کردیا۔

کمیشن کی طرف سے بھجوائی جانے والی سفارشات پر اگر پارلیمانی کمیٹی کو اعتراض ہوا تو وہ تحریری طور پر کمیشن کو آگاہ کریں گے جس کے بعد سپریم کورٹ میں اس معاملے کو دیکھا جائے گا اور اس بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔

سپریم کورٹ کے جج کے طور پر نامزد ہونے والے عمر عطا بندیال اُن ججز میں شامل تھے جنہیں تین نومبر سنہ دوہزار سات میں پی سی او کے تحت حلف نہ لینے پر گھروں کو بھیج دیا گیاتھا۔ بعدازاں وہ چار ججز میں شامل تھے جنہوں نے اگست سنہ دوہزار آٹھ میں دوبارہ حلف لیا تھا جبکہ اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو مارچ سنہ دوہزار نو میں بحال کیا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے نامزد ہونے والے نئے چیف جسٹس خواجہ امتیاز ہائی کورٹ کا جج بننے سے پہلے مختلف شہروں میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔ اُنھیں سنہ دو ہزار نو میں لاہور کورٹ میں بطور ایڈشنل جج تعینات کیا گیا تھا جبکہ سنہ دو ہزار گیارہ میں لاہور کورٹ میں مستقل جج بنایا گیا تھا۔