سپریم کورٹ نے جیو تنازع کا نوٹس لے لیا، سماعت جمعہ کو

جیو کی بندش سے متعلق مقدمے کی سماعت جمعہ کو ہو گی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجیو کی بندش سے متعلق مقدمے کی سماعت جمعہ کو ہو گی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے سب سے بڑے نجی ٹی وی چینل جیو کو بند کرنے کی کوششوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جنگ گروپ کی جانب سے اخبار میں شائع ہونے والی اپیل اور انڈیپینڈنٹ میڈیا کمپنی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے لیے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کے روز ابتدائی سماعت شروع کی تو بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے مقدمہ سننے کے حوالے سے ان پر کیےگئے اعتراضات کا جواب دیا۔

کراچی کے ایک تاجر عقیل کریم ڈھیڈی نے بدھ کو نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ جیو اور جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان جسٹس جواد ایس خواجہ کی اہلیہ کے رشتہ دار ہیں اس لیے اُنھیں اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے جمعرات کو اپنے حکم میں کہا ہے کہ کسی مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں بیٹھنے یا نہ بیٹھنے کا فیصلہ جج اپنے ضمیر کے مطابق کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عقیل ڈھیڈی کے اعتراضات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جسے بنیاد بنا کر وہ اس درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ سے الگ ہو جائیں۔

سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمان اُن کی اہلیہ کے رشتہ دار ضرور ہیں لیکن وہ گُذشتہ بیس سال سے ان سے نہیں ملے۔

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ حکومت سے پوچھ کر بتائیں کہ اُنھیں ان (جواد ایس خواجہ) کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض تو نہیں ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کچھ دیر بعد عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کو اُن سمیت سپریم کورٹ کے کسی بھی بینچ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ججز کوئی مقدس گائے نہیں، اُن پر بھی تنقید ہوتی ہے لیکن کسی کو اداروں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ رات گئے تک اُنھیں علم نہیں تھا کہ وہ ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کی سربراہی کر رہے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس گُلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت جو حالات پیدا ہوئے ہیں اُس کی ذمہ داری پیمرا پر عائد ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ جیو کی بندش سے متعلق درخواستوں کی اگلی سماعت 23 مئی بروز جمعہ کرے گی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیو چینل کو بند کرنے سے متعلق دائر کی گئی درخواست کو پیمرا کو بجھوا دیا ہے۔