’کیبل آپریٹرز کو چینل بند کرنے کا اختیار نہیں‘

پاکستان کے مختلف نجی نشریاتی اداروں میں الزامات کی جنگ جاری ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے مختلف نجی نشریاتی اداروں میں الزامات کی جنگ جاری ہے
    • مصنف, علی سلمان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کی اس وضاحت کے باوجود کہ کیبل آپریٹرز کو ٹی وی چینل کی نشریات بند کرنے کا اختیار نہیں ہے بعض کیبل آپریٹرز نے نجی ٹی وی چینل جیو کی نشریات بحال نہیں کی ہیں بلکہ کیبل آپریٹرز نے دعوی کیا ہے کہ تکنیکی طور پر ان کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ پیمرا کے لائسنس یافتہ کوئی سے اکیس چینل نہ چلائے۔

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو پر حال ہی میں ایک متنازع پروگرام میں عوام کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اس کی انتظامیہ اور مالکان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔

جیوٹی وی پر تنقید کا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب اس کے اینکر پرسن اور صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی کوریج کے دوران آئی ایس آئی پر اس قاتلانہ حملےکا الزام عائد کیا گیا تھا۔

جیو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کا چینل بری طرح زیر عتاب ہے اور بعض کیبل آپریٹرز نے یا تو جیو ٹی وی چینل دکھانا بند کردیا ہے یا اختتام کے چینلز پر ڈال دیا گیا ہے۔

پہلے کیبل آپریٹرز نے جیو پر غداری اور ملک دشمنی جیسے الزام عائد کیے تھے اب ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے گئے ہیں۔

کیبل آپریٹرز کے رویے پر جیو سے وابستہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایسے ہی کہ جلدیں بنانے والا کسی کتاب کی جلد کرنے سے اس لیے انکار کر دے کہ اسے اس کے مندرجات سے اختلاف ہے یا کوئی ہاکر یہ مطالبہ کردے کہ خبریں اس کی مرضی کے مطابق ہوں تو تب ہی وہ اخبار بانٹے گا۔

جیو نیوز لاہور کے بیورو چیف خاور نعیم ہاشمی نے کہا ہے کہ ان کے لیے یہ بہت ہی حیرانی کی بات ہے کہ حکومت کا وفاقی وزیر یہ کہتا ہے کہ کیبل آپریٹر کسی چینل کو بند نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود ٹی وی چینل بند رہتا ہے۔

جیو ٹی وی نے حامد میر پر حملے کا الزام آئی ایس آئی پر لگایا تھا اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجیو ٹی وی نے حامد میر پر حملے کا الزام آئی ایس آئی پر لگایا تھا اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

انھوں نے کیبل آپریٹر کے اس رویے کو آزادی صحافت کے منافی قرار دیا اور کہا کہ ان کے ذریعے میڈیا کے اداروں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ ایک تھانیدار اپنے علاقے میں کیبل آپریٹر کو کہہ کر کسی بھی چینل کو بند کروا سکتا ہے بلکہ کرواتا ہے۔

پاکستان میں ٹی وی چینلز کیبل آپریٹیرز کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور انھیں خوش کرنے کے لیے مختلف انعامی سکیمیں نکالتے رہتے ہیں۔ایک ٹی وی چینل کے ڈسٹری بیوٹر نے کہا کہ نیا چینل اچھی ریٹنگ لینے کے لیے اوپر کےنمبروں پر مشہور چینلز کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کیبل آپریٹرز کو موٹر سائیکل، فریج ٹی وی کے علاوہ نقد رقومات پیش کی جاتی ہیں۔

جیو ٹی وی کے ایک سینئیر اہلکار نے کہا کہ آج کل یہ صورتحال ہے کہ جیو چینل کو نیچا دکھانے کےلیے متحارب چینلز کیبل آپریٹرز کو تحائف کے نام پر رشوت کی پیشکشیں کررہے ہیں۔

بہرحال یہ سب کچھ گلی محلے میں بیٹھے عام کیبل آپریٹرز کے نہ تو بس کی بات ہے اور نہ ہی وہ یہ سب کرتے ہیں۔ایک محلے کے کیبل آپریٹر لطیف بٹ نے کہا کہ انہیں تو پیچھے سے بڑی کمپنی (ادارہ) جس ترتیب سے چینلز فراہم کرتے ہیں وہ بوسٹرلگا کر اسی ترتیب سے چینلز عام صارفین تک پہنچا دیتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ چینلز چلانا بند کرنا اس کو اوپر نیچے کرنا تو کیبل کمپنی کے ہیڈکواٹرمیں کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چار بڑے کیبل آپریٹرز میں سے تین نے ایک نجی چینل دکھانا بند کر رکھا ہے۔

کیبل آپریٹر کی تنظیم کے ایک عہدیدار کیپٹن ریٹائرڈ عبدالجبار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیبل آپریٹر کے پاس ایک سو چھ فریکیونسیز ہوتی ہیں اور پیمرا نے ایک سو ستائیس چینلز کو لائسنس دے رکھے ہیں تو تکینکی لحاظ سے یہ اختیار خود کیبل آپریٹر کے پاس چلا گیا کہ وہ کوئی سے بھی اکیس چینل بند کردے۔

انھوں نے کہا کہ کیبل آپریٹر کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ عوام کو اپنی مرضی کے چینل دکھائے بلکہ وہ تو عوام کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا جیو ٹی وی پر ایک پروگرام میں عوام کے مذہبی جذبات مجروح کیے گئے جس کے بعد اب عام لوگ وہ چینل نہیں دیکھنا چاہتے تو کیبل آپریٹر اس چینل کو نہیں چلاتے۔

ماضی میں پاکستان کی حکومت نے انڈیا کے ٹی وی چینلز کو بند کرنے کے لیےکیبل آپریٹرز کو کامیابی سے استعمال کرچکی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریبًا تمام میڈیا چینلز اور صحافتی حلقوں نے اس اقدام کی یا تو کھل کر یا خاموش رہ کر حمایت کی تھی۔ اب وہی حربے پاکستان کے بڑے ٹی وی چینل کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں تو اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔