’حکومت میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی قوت نہیں‘

قومی اسمبلی
،تصویر کا کیپشنگذشتہ پارلیمانی سال کے دوران حکومت نے قومی اسمبلی میں 11 بل منظور کروائے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں جمہوریت اور پالیسی سازی پر کام کرنے والے ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیویلیپمنٹ اینڈ ٹرانسپریسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت میں ابھی اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی قوت نہیں ہے اس لیے وہ گذشتہ پارلیمانی سال میں قانون سازی کے اہداف حاصل نہیں کر سکی۔

گذشتہ پارلیمانی سال کے دوران حکومت نے قومی اسمبلی میں 11 بل منظور کروائے جن میں سے ایک بھی بل ایوان بالا یعنی سینیٹ سے منظور نہیں ہو سکا۔ ان میں سے ایک تحفظِ پاکستان ایکٹ بھی ہے۔

یہ بل اس وقت سینیٹ کی مختلف قائمہ کیمیٹیوں کے پاس زیرِالتوا ہیں جبکہ 12واں بل بجٹ سے متعلق ہے جس کے لیے سینیٹ کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احمد بلال محبوب نے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران حکومت پارلیمنٹ سے قومی اہمیت کا حامل ایک بھی قانون متفقہ طور پر منظور نہیں کروا سکی۔

احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ملک میں شدت پسندی کو روکنے کے لیے تحفظ پاکستان بل کو بھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور نہیں کروایا جاسکا اور اس قانون کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہت ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے اس بل کو قومی اسمبلی سے تو منظور کروا لیا ہے لیکن ایوان بالا میں عددی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اسے منظور نہیں کروایا جا سکا اور بعد ازاں اس بل کو آرڈینینس کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔

احمد بلال صوفی کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بجلی چوری سے متعلق بھی قانون سازی کرنی تھی لیکن اگر حالات ایسے ہی رہے تو پھر شاید پارلیمنٹ میں کوئی بھی قانون سازی نہیں ہو سکے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کو سینیٹ میں عددی برتری حاصل کرنے کے لیے مزید دو سال انتظار کرنا پڑے گا جو کہ کسی طور پر بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

سینٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتراز احسن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف ایک مرتبہ بھی ایوان بالا کے اجلاس میں نہیں آئے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حکومت اداروں کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی۔ اُنھوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کا نام گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں آنا چاہیے کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی ایوان بالا میں نہیں آئے۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی یہ روش رہی ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد پارلیمان کو ’کولڈ سٹوریج‘ میں رکھ دیتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی وزرا بھی میاں نواز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایوان بالا کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے۔ رضا ربانی کا کہنا تھاکہ حکومت کے غیر سنجیدہ رویے سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تحفظ پاکستان بل اور دیگر معاملات پر قانون سازی کے لیے اپوزیشن سے مشاورت جاری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تحفظ پاکستان بل میں حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے اگر کوئی مثبت تجاویز آئیں تو اُنھیں بھی اس بل میں شامل کر لیا جائے گا۔

مشاہد اللہ خان نے دعویٰ کیا کہ تحفظ پاکستان بل سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں منظور کروا لیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مصالحت پر یقین تو رکھتی ہے لیکن ایسی مصالحت نہیں چاہیے جس سے بدعنوانی کو فروغ حاصل ہو جس طرح سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں مصالحت کے نام پر ملک میں کرپشن اور دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔