’سیاسی قائدین پولیو کے قطرے پلائیں گے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ایوب ترین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں قومی اسمبلی نے ملک سے پولیو کے مرض کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔
ایوان میں موجود سیاسی جماعتوں کے قائدین اور منتخب نمائندوں نہ صرف خود اس مہم میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ اپنے کارکنوں کو بھی اس میں شامل کرانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
پاکستانی ارکانِ پارلیمان کی جانب سے یہ اقدام ملک میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں اضافے اور عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے پاکستان کو دنیا بھر میں پھیلاؤ کا سبب بننے والے تین ممالک میں شامل کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے 60 کے قریب نئے مریض سامنے آ چکے ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق ملک کے قبائلی علاقوں سے ہے۔
خصوصی مہم کے بارے میں قرارداد منگل کو وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ ایوان ملک سے پولیو وائرس کے خاتمہ کےلیے مشترکہ طور پر کام کرے گا۔
سائرہ تارڑ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان اور پنجاب پولیو سے پاک ہیں جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں پولیو کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے اس کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان حکومتوں نے وفاق کو اکثر اوقات غلط اعداد و شمار فراہم کیے ہیں۔
تاہم خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریکِ انصاف کی خاتون رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے’صحت کا انصاف‘ کے تحت موثر انداز میں پولیو کے خلاف مہم چلائی ہے اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں مرکزی حکومت کو پولیو وائرس پر قابو پانے میں تاحال کامیابی نہیں ملی ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے پولیو کے معاملے میں ملک کا بہتر انداز میں دفاع نہیں کیا جس کے باعث پاکستان کو عالمی پابندیوں کا سامنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جب صحت کی عالمی تنظیم نے پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر سے قبل پولیو کے قطرے پینے کی شرط لازمی قرار دی تو جہاں بھارت نےاس پابندی کو تین ماہ تک کے لیے نرم کرنےکی تجویز پیش کی، وہیں سعودی عرب نے اس پابندی کی کھل کرحمایت کی۔
بحث کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کی خاتون رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی نے خواتین پولیو ورکروں پر قاتلانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انھیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ کراچی کےجن علاقوں میں پولیو کے زیادہ کیس سامنے آ رہے ہیں وہاں افغان مہاجریں اکثریت میں ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف نئے آنے والے افغان مہاجرین پر فوری پابندی عائد کرے بلکہ پاکستان میں آباد مہاجرین کو واپس ان کے ملک بھیجا جائے۔
رکن اسمبلی ڈاکٹر نگہت نے والدین کے ذہنوں میں پولیو ویکسین کے بارے میں موجود خدشات دور کرنے کے لیے آگہی مہم چلانے پر زور دیا اور کہا کہ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 47 ہزار والدین ایسے ہیں جنھوں نے اپنے پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کے ذہنوں میں پولیو کے قطروں کے حوالے سے جو اختلافات ہیں، انھیں دور کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر شعور و آگہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ملک شہاب الدین خان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت تعلیم اور صحت وفاق کی ذمہ داری ہے جو لوگ ڈرون حملوں یا ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں انھیں معلوم ہوناچاہے کہ ان کے حلقے میں 2006 میں بھی پولیو ٹیم کے کارکنوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
خیال رہے کہ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کو ان تین ممالک میں شامل کیا ہے جو دنیا میں پولیو کے وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے اس سلسلے میں پاکستان سے بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینا لازمی قرار دیا ہے۔
پاکستانیوں پر ان سفری پابندیوں کی تجویز کے بعد پاکستانی حکام نے ملک میں انسدادِ پولیو کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں امام کعبہ بھی شریک ہوں گے۔
ماضی میں پاکستان میں انسدادِ پولیو مہمات سکیورٹی کے خطرات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے رضاکاروں اور ان کی سکیورٹی پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو شدت پسندی کے واقعات میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔







