’میں موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا‘

’میران شاہ میں موسیقی کے لیے کوئی ماحول ہی نہیں تھا۔ خوف ضرور تھا لیکن میں اس ماحول میں بھی موسیقی سیکھتا رہا‘
،تصویر کا کیپشن’میران شاہ میں موسیقی کے لیے کوئی ماحول ہی نہیں تھا۔ خوف ضرور تھا لیکن میں اس ماحول میں بھی موسیقی سیکھتا رہا‘
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بنوں

’شمالی وزیرستان میں بہت گلوکار ہیں جو موسیقی کا شوق ترک نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے علاقہ ترک کر دیا اور جو لوگ علاقہ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے انھوں نے موسیقی کو خیر باد کہہ دیا۔‘

یہ الفاظ ہیں پیشے کے اعتبار سے ہومیو پیتھک ڈاکٹر، میران شاہ میں اقلیتوں کی تنظیم کے صدر اور موسیقی کا شوق رکھنے والے ڈاکٹر خالد اقبال کے جو ان دنوں خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں ان متاثرہ افراد میں شامل ہیں۔ انھیں ایک سکول میں پناہ ملی ہے۔

مسیحیوں کے اس مشن سکول میں اقلیتوں کے کچھ خاندان پہنچے ہیں، جن میں ہندو اور مسیحی برادری کے لوگ شامل ہیں۔ اقلیتی برادری کے یہ لوگ وزیرستان کے لہجے میں پشتو زبان روانی سے بولتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد اقبال اردو، پنجابی اور سرائیکی کے علاوہ پشتو زبان میں بھی گیت گاتے ہیں۔

انھوں نے اس موقعے پر پشتو کا معروف گانا سنایا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ’پھر اسی طرح کہہ دو مجھے اپنا جانان کہہ دو۔‘

شمالی وزیرستان میں یوں تو موسیقی اور ٹی وی کے استعمال پر پابندی کافی عرصے سے لاگو تھی لیکن طالبان کی جانب سے سنہ 2005 کے بعد مزید سختی کر دی گئی جب مختلف علاقوں میں سی ڈیز کی دکانوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر خالد اقبال کا کہنا ہے: ’میران شاہ میں موسیقی کے لیے کوئی ماحول ہی نہیں تھا۔ خوف ضرور تھا لیکن میں اس ماحول میں بھی موسیقی سیکھتا رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ سنہ 2005 کے بعد طالبان نے ڈھول بجانے اور سی ڈیز کی دکانوں پر پابندی عائد کی اور نوٹس بھیجے کہ وہ یہ کاروبار ترک کر دیں، جنھوں نےسی ڈیز یا موسیقی کا کوئی کاروبار نہیں چھوڑا ان کی دکانوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔

’میں چھاؤنی کے علاقے میں رہتا تھا۔ کبھی کبھار حالات ایسے ہو جاتے تھے کہ گائیکی کا موقع میسر نہیں ہوتا تھا لیکن پھر جب حالات قدرے بہتر ہوتے تو میں اپنا شوق ضرور پورا کرتا تھا۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’میں موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میرا شوق میرے ساتھ قبر میں جائے گا۔ اگر علاقے میں واپس جانے کے بعد بھی میں اپنا شوق پورا نہ کر سکا تو میری اولاد یہ کام ضرور کرے گی۔‘

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں کیا صورتِ حال سامنے آتی ہے، بیشتر لوگ اسی طرف نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انھیں پر امن وزیرستان چاہیے جس میں وہ آزادی سے رہ سکیں۔