شمالی وزیرستان: فورسز پر خودکش حملہ، تین ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہسپتال کے قریب سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک مبینہ خودکش حملے میں کم سے کم دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ منگل کو دوپہر کے وقت شمالی وزیرستان کے علاقے سپین وام میں پیش آیا۔
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے باردو سے بھری ایک گاڑی کو سپین وام ہسپتال کے سامنے قائم سکیورٹی چیک پوسٹ سے سو میٹر دور روکنے کی کوشش کی جس کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہو گیا۔
دھماکے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں دو فورسز کے اہلکار اور ایک عام شہری بتائے جاتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے سے مقامی ہسپتال کی عمارت گر کر تباہ ہوگئی ہے۔
سپین وام میں عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کا نشانہ سکیورٹی چیک پوسٹ تھی جو رورل ہیلتھ سنٹر کے ساتھ بنائی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ دھماکے سے ہسپتال سے متصل واقع سرکاری سکول کی عمارت تباہ ہوگئی جبکہ اردگرد واقع مکانات کے شیشے اور دروازے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ سپین وام کا شمار شمالی وزیرستان کی ان 11 تحصیلوں میں ہوتا ہے جہاں سکیورٹی فورسز نے ابھی تک کارروائی کا آغاز نہیں کیا۔
علاقے کے باشندوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کی پانچ تحصیلوں سپین وام، دوسلی، گڑیوم، رزمک اور شوا میں حالات پہلے سے پرامن رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں آپریشن نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ مقامی مشران اور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت علاقے کے لوگ غیر ملکیوں یا طالبان کو اپنے گھروں میں پناہ نہیں دیں گے اور نہ ان کی مدد کریں گے۔







