سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ، دو افسران سمیت پانچ ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترنول کے قریب فتح جنگ روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں دو افسران سمیت کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق حملے میں سکیورٹی فورسز کی ڈبل کیبن گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے میں لیفٹیننٹ کرنل ظاہر شاہ اور لیفٹیننٹ کرنل ارشد ہلاک ہوگئے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق حملے میں تین عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔
پولیس کے مطابق حملہ خود کش تھا اور اس کا نشانہ بننے والی گاڑی ایک حساس ادارے کی تھی۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ایک پیدل خود کش حملہ آور نے پھاٹک کے قریب گاڑی کو نشانہ بنایا جس کی وجہ سے قریب سے گزرنے والا ایک رکشہ بھی اس کی زد میں آ گیا۔
پولیس نے مطابق دھماکے سے ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے دو افسران، رکشہ ڈرائیور اور خودکش حملہ آور شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ حساس ادارے کے یہ اہلکار معمول کے مطابق اپنے دفاتر جا رہے تھے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت ان کی گاڑی کے ہمراہ سکیورٹی کی گاڑیاں نہیں تھیں۔ تاحال عسکری ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی۔
مقامی پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور ایک بھکاری کے روپ میں تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر یہ خودکش حملہ ہوا وہاں پر بھکاریوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہوتی ہے اور جونہی ریلوے کا پھاٹک بند ہوتا ہے یا گاڑیوں کی رفتار کم ہوتی ہے تو بھکاری اُن گاڑیوں کی طرف بھاگتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق جونہی خودکش حملے کا نشانہ بننے والی گاڑی کے ڈرائیور نے رفتار کم کی تو خودکش حملہ آور نے خود کو اس گاڑی سے ٹکرا دیا۔
پولیس نے جائے حادثہ سے مختلف انسانی عضاء کو اکھٹا کرنے کے بعد اُنھیں راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں منتقل کردیا ہے۔ پولیس نے خودکش حملہ آور کے حلیے اور اس واقعے سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ریلوے پھاٹک کے انچارج سے پوچھ گچھ شروع کردی ہے۔
واضح رہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق تھانہ ترنول کی حدود میں قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرکے ترنول کے علاقے میں رہ رہے ہیں اور اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ ان میں ایسے افراد کی بھی خاصی تعداد موجود ہے جن کا تعلق شدت پسند تنظیموں سے ہے۔







